انڈیا چھوڑ دو کی دھمکی، پاکستانی فنکار واپس لوٹنا شروع

،تصویر کا ذریعہfilm pr
- مصنف, صبا اعتزاز
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے اوڑی حملے کے بعد سخت گیر ہندو جماعت کی جانب سے پاکستانی فنکاروں کو انڈیا چھوڑ دینے کی دھمکی کے بعد بالی وڈ میں کام کرنے والے پاکستانی فنکار پاکستان واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں۔
بالی وڈ میں کام کرنے والے اہم فنکاروں کے ایجنٹس میں سے ایک ایجنٹ نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات کی خرابی میں فنکاروں کے ساتھ سب سے برا برتاؤ اس بار کیا گیا۔
ایجنٹ کے مطابق انڈیا میں کام کرنے والے فلمی ستاروں کو اُن کی حفاظت کے پیشِ نظر ملک سے نکلنے کا مشورہ دیا گیا۔
بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق نمایاں پاکستانی فنکار علی ظفر، فواد خان، ماہرہ خان اور عمران عباس ان دنوں انڈیا میں فلموں کی شوٹنگ میں مصروف تھے اب پاکستان واپس پہنچ چکے ہیں۔
ایجنٹ نے مزید بتایا کہ انڈین فلمی ستاروں اور پروڈیوسرز پر دائیں بازو کی جماعتوں اور شدت پسند تنظیموں کی جانب سے شدید دباؤ ہے کہ وہ پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام بند کریں۔
’اس وجہ سے اکثر پاکستانی فنکار پاکستان واپس پہنچ چکے ہیں جنہیں ان کے فلمسازوں اور ہدایتکاروں نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر خاموشی اختیار کریں کیونکہ انھیں شدید عوامی ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
یاد رہے کہ انڈیا کی ریاست مہاراشٹر کی سخت گیر ہندو جماعت ایم این ایس یعنی مہاراشٹر نو نرمان سینا نے تمام پاکستانی فنکاروں اور اداکاروں کو بھارت چھوڑنے کی دھمکی دی تھی۔
ایم این ایس کے رہنما امئی كھوپكر نے 23 ستمبر کو کہا تھا کہ ’ہم سب پاکستانی فنکاروں اور اداکاروں کو بھارت چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے کا وقت دیتے ہیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حال ہی میں انڈیا کے مقبول چینل زی زندگی جو پاکستانی ڈرامے نشر کرتا تھا نے اعلان کیا کہ وہ پاکستانی پروگرام نشر نہیں کرے گا۔ واضع رہے کہ پاک بھارت تعلقات میں حال ہی میں اوری میں ہونے والے حملے کے بعد تناو بڑھ گیا ہے



















