کولکتہ، تسلیمہ نسرین کی کتاب کااجرامنسوخ

تسلیم نسرین
،تصویر کا کیپشنبھارتی مسلم تنظمیں تسلیمہ نسرین کی مخالفت کرتی رہی ہیں
وقت اشاعت

بنگلہ دیش کی متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کی نئی کتاب ’نرباسن‘ کی کولکتہ کے کتاب میلے میں بدھ کے روز رونمائی ہونی تھی لیکن احتجاج کے خدشے کے پیش نظر اسے منسوخ کر دیا گيا ہے۔

اطلاعات تھیں کہ تسلیمہ نسرین کے خلاف مسلم تنظیمیں احتجاجی مظاہرہ کر سکتی ہیں اس لیے ’بک سیلر اینڈ پبلشرز گلڈ‘ نے اس کتاب کے اجراء کے لیے منعقد کی جانے والی تقریب رونمائی کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خبروں کے مطابق اب یہ کتاب آنے والے ’پیوپلز بک سوسائٹی‘ کے کتاب میلے میں جاری کی جائے گی۔

تسلیمہ نسرین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ بک فیئر نے ان کی کتاب کا اجراء بعض سخت گیر موقف کے لوگوں کے احتجاج کے ڈر سے منسوخ کر دیا ہے۔

انہوں نے لکھا ’ کولکتہ ترقی پسند لوگوں کا شہر ہے اور میری غیر موجودگي میں میری کتاب کا اجراء ممکن نہیں۔ کولکتہ کی ہر سیاسی جماعت اور تنظیم سخت گیر موقف کے لوگوں سے ڈرتی ہیں۔ لیکن آخر کب تک؟‘

نوے کے عشرے میں تسلیمہ نسرین کی کتاب لجّا کے خلاف کئی مسلم اداروں نے فتویٰ جاری کیا تھا۔

سنہ دو ہزار سات میں مسلم تنظیموں کے احتجاجی مظاہروں کے بعد ریاست مغربی بنگال کی حکومت نے تسلیمہ نسرین کو کسی نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔

بعد میں وہ بھارت چھوڑ کر سویڈن چلی گئی تھیں اور پھر دوبارہ بھارت واپس آئي تھیں۔ ان کی نئی کتاب نرباسن یعنی ہجرت انہیں یادوں پر مبنی ہے۔

تسلیمہ نسرین کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے لیکن ان کتاب پر ہوئے تنازعے کے بعد سے وہ خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔

تسلیمہ نسرین نے اپنی جلا وطنی کا زیادہ تر عرصہ بھارت میں ہی گزرا ہے اور وہ مشرقی شہر کولکتہ میں رہتی ہیں۔