|
ٹیگور: نوبل انعام کی نقول مل گئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سویڈن نے ہندوستان کو رابندرناتھ ٹیگور کے نوبل انعام کی دونقول پیش کر دی ہیں۔ ہندوستان میں سویڈن کے سفیر نے یہ تمغہ وزیرخارجہ نٹور سنگھ کو وشوبھارتی یونیورسٹی کی ایک تقریب میں پیش کیا ہے۔ مشہور ادیب، مصور و دانشور رابندر ناتھ ٹیگور کا تمغہ گزشتہ برس یونیورسٹی کے عجائب گھر سے چوری ہوگیا تھا۔ ٹیگور کو نوبل انعام انکی شاعرانہ تخلیق گیتا نجلی کے لیۓ 1913 میں دیا گیا تھا۔ نوبل انعام اور ٹیگور کے کئی دیگر فن پارے اس سال 25 مارچ کو وشوبھارتی یونیورسٹی سے چوری ہوگئے تھے۔ یہ معاملہ سی بی آئی کے حوالے کردیا گیا تھا لیکن تمغے کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ٹیگور کے تمغے کی شبیہ چاندی اور سونے کی ہے۔ یہ اصل تمغے کی ہو بہو نقول ہیں۔ سویڈن کے سفیر انگا ایرکسن فوغ نے تمغہ وزیرخارجہ نٹورسنگھ کو دیا اور مسٹر سنگھ نے اسے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سوجیت باسو کے حوالے کردیا۔ دو روز بعدرابندرناتھ ٹیگور کا ایک سو چوالیسواں یوم پیدائش ہے۔ نوبل انعام کی چوری کے بعد ہندوستان نے نوبل فاؤنڈیشن سے اصل تمغے کی ایک کاپی دینے کی اپیل کی تھی۔ سوڈین کی حکومت نے گزشتہ برس دسمبر کے مہینے میں یہ نقول ہندوستانی حکومت کو دی تھیں۔ لیکن آج باقاعدہ طور پر ایک تقریب میں انہیں یونیورسٹی کے حوالے کردیا گیا ہے تاکہ عوام اسکا دیدار کرسکیں۔ اس موقع پر لوک سبھا کے اسپیکر سومناتھ چٹرجی، وزیردفاع پرنب مکھرجی اور نوبل انعام یافتہ اقتصادیات کے ماہر امرتیہ سین موجود تھے۔ ٹیگور کے بعد ہندوستان کے سائنسدان سی وی رمن کو 1930 میں فزکس کا نوبل انعام ملا۔ 1986 میں ڈاکٹر ہر گوبند کھورانہ کو میڈیسن کےشعبے میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ سبرامنیم چندر شیکھر کو فزکس میں انکی خدمات کے لیۓ 1983 میں نوبل انعام دیا گیا۔1997 میں مدر ٹریسا کو امن نوبل انعام ملا۔ ڈاکٹر امرتیا سین کو 1998میں اکنامکس کے شعبے میں نوبل انعام ملا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||