بھارتی سائنس دان نے بھی ایوارڈ واپس کر دیا

بھارت کے نامور سائنس دان پی ایم بھارگو کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں ’بڑھتی ہوئی عدم برداشت‘ کی وجہ سے اعلیٰ ترین سرکاری ایوارڈ واپس کر دیں گے۔
پی ایم بھارگو کا کہنا ہے کہ وہ وزیر سیکریٹری داخلہ سے ملاقات کرنے کے بعد اپنا ایوارڈ واپس کریں گے۔ انھیں پدم بھوشن ایوارڈ سنہ 1986 میں دیا گیا تھا۔
بدھ کو دس فلم سازوں کے ایک گروپ نے بھی ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی وجہ سے اپنے اعزازت واپس کیے ہیں جبکہ حالیے ہفتے کے دوران کئی ادیبوں نے بھی اپنے ایوارڈ واپس کر دیے ہیں۔
ملک میں کئی افراد مبینہ طور پر گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں مشتعل افراد کے ہاتھوں ایک 50 سالہ مسلمان شخص کی ہلاکت پر بھی برہم ہیں۔
بھارت میں ناقدین کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت بی جے پی ملک میں عدم برداشت کو روکنے کے لیے موثر کارروائی نہیں کر رہی ہے۔
سائنس دان پی ایم بھارگو نے جمعرات کو ایوارڈ واپس دینے کا اعلان کیا ہے ۔ وہ حیدر آباد شہر میں بنائے گئے سینٹر فار سیلیولر اینڈ مالیکیولر بیالوجی کے بانی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ مذہبی عقائد ہر ایک کا ذاتی معاملہ ہے اور سیاست میں اس کا عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔
بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ ایواڈ مجھے بہت عزیز تھا لیکن یہ وہ واحد چیز ہے جو میں نے حکومت سے لی ہے۔ اس لیے میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسے واپس کر رہا ہوں کیونکہ اس وقت جو ماحول بن گیا ہے اس پر مجھے بہت سے تحفظات ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’حکومت جمہوریت کے راستے سے ہٹ رہی ہے اور مذہب کے راہ پر چلتے ہوئے ملک کو ہندو ریاست بنا رہی ہے۔‘
سائنس دان پی ایم بھارگو نے کہا کہ بھارت کا آئین ہمیں سائنسی مزاج اور دلیل سے بات کرنے کا درس دیتا ہے لیکن ملک سائنسی مزاج کی راہ سے ہٹ رہا ہے۔



















