سب سے زیادہ گہرائی میں رہنے والی مچھلی دریافت

،تصویر کا ذریعہPA
سب سے زیادہ گہرائی میں رہنے والی مچھلی کا نیا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔
سائنسدانوں نے ایک عجیب الخلقت مخلوق کی تصویر سمندری لہروں کے 8145 میٹر نیچے لی ہے جو کہ سابقہ ریکارڈ سے تقریبا نصف کلو میٹر نیچے ہے۔
اطلاعات کے مطابق کیمرے میں دوسری قسم کی متعدد مچھلیوں کی بھی تصویریں آئی ہیں جن میں بڑی کرسٹیشین مچھلیاں بھی شامل ہیں جنھیں سپردویوقامت کہا جاتا ہے۔
ان جانداروں کی تصاویر میریانا ٹرینچ کی گہرائیوں میں بین الاقوامی مہم کے درمیان لی گئی ہے۔
واضح رہے کہ میریانا ٹرینچ بحرالکاہل میں سب سے گہری جگہ ہے اور یہ سطح سمندر سے 11 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع ہے۔
شمت اوشین ریسرچ کے جہاز فالکور سے اس مہم کے لیے 30 دنوں کا سفر کیا گیا جسے دنیا کی سب سے گہری جگہ میریانا ٹرینچ کا اب تک کا سب سے جامع سروے کہا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPA
ہیڈل ایکوسسٹم سٹڈیز (ہیڈز) کی ٹیم نے پانچ ہزار سے 10600 میٹر کی گہرائی میں بغیر انسان والی سیڑھیاں 90 مرتبہ ڈالیں۔
انھوں نے سمندر کے نیچے کی تہوں اور دیواروں کا بھی مطالعہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ کی ہوائی یونیورسٹی کے سائنداں ڈاکٹر جیف ڈریزن نے کہا: ’ٹرینچ پر مبنی بہت سے مطالعے کیے گئے ہیں لیکن ایکولوجی کے نقطۂ نظر سے یہ تمام مطالعے بڑے محدود تھے۔ یہ ایسے ہی تھے جیسے کسی پہاڑ کے ایکو سسٹم کو جاننے کے لیے صرف اس کی چوٹی کو ہی دیکھا جائے۔‘
ابرڈین یونیورسٹی کے ہیڈل لینڈر جو کہ برطانیہ کا سب سے زیادہ گہرائی میں جانے وال جہاز ہے اس نے تقریبا 100 گھنٹے کی فلم ریکارڈ کی ہے۔
اس سے قبل سب سے زیادہ گہرائی پائی جانے والی مچھلی جاپان کے ٹرینچ میں پائي گئی تھی۔ یہ ٹرینچ بھی بحرالکاہل میں ہی ہے۔ یہاں گلابی شول پائی گئی تھی جو کہ 7700 میٹر گہرائی میں تھی۔

،تصویر کا ذریعہ
ایبرڈین یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایلن جیمیسن نے کہا: ’اس مچھلی کی دریافت کے بعد ہم نے ہر ٹرینچ میں مچھلی تلاش کرنے کی کوشش کی اور تمام ٹرینچ میں اپنی قسم کی گھونگھے جیسی مچھلیاں تھیں۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’اور ہمیں ایک مچھلی میریانا ٹرینچ میں آٹھ ہزار میٹر کی گہرائی میں ملی اور ہمارے خیال سے یہ مچھلیوں کی ایک نئی قسم ہے۔‘
اس مچھلی کی دریافت سے ٹیم کو یہ لگا کہ انھوں نیا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے لیکن پھر انھوں ہلکے گلابی رنگ کی ایک قسم نظر آئی جو 8145 میٹر کی گہرائی میں تھی۔
ڈاکٹر جیمیسن نے کہا: ’ہمارے خیال میں یہ ایک سنیل فش ہے لیکن یہ انتہائي عجیب الخلقت ہے۔۔۔ یہ ناقابل یقین طور پر کمزور ہے اور جب یہ پیرتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ بھیگا ہوا ٹیشو پیپر تیر رہا ہے۔‘



















