سڈنی: مدرسے کے لیے احتجاج

وقت اشاعت

آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر سڈنی میں سینکڑوں افراد نے ایک مدرسے کی تعمیر کا منصوبہ ختم کیے جانے پر احتجاج کیا ہے۔ مدرسے میں تعلیم کے خواہاں نوجوانوں اور ان کے والدین نے کہا ہے کہ مدرسے کی تعمیر روکنے کا فیصلہ غیر منصفانہ اور نسلی تعصب کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

آسٹریلیا کی اسلامی تنظیموں نے کہا ہے کہ ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مسلمان آبادی کے لیے مخصوص تعلیم کا بندوبست کیا جانا چاہیے۔ مدرسے کی تعمیر اسی ہفتے کے دوران شروع ہونی تھی۔

سڈنی کے نواح میں بیس ہِل کے علاقے میں بارہ سو طالب علموں کے لیے مدرسے کی تعمیر پر سب سے پہلے علاقے کے لوگوں نے اعتراض کیا تھا، پھر مقامی کونسل میں اس کی مخالفت اور بعد میں اس کی تعمیر رکوانے کے لیے قانونی چارہ جوئی بھی کی گئی۔منصوبہ ان تمام مراحل سے کامیابی سے منظور ہو گیا لیکن پھر عین اس وقت جب تعمیر شروع ہونے والی تھی کہ نیو ساؤتھ ویلز کی حکومت نےسے مسترد کر دیا۔

سینکڑوں مسلمان والدین اور ان کے بچوں نے محکمہ تعلیم کے سامنے احتجاج کیا اور منصوبے کی منظوری کا مطالبہ کیا۔ ساؤتھ ویلز کی حکومت نے زمین جو اس نے چند برس پہلے فروخت واپس لے لی ہے۔

احتجاج کرنے والے لوگوں کے ترجمان رفیق حسین نے کہا کہ حکومت نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ ’ہم اس فیصلے کو منظور نہیں کرتے۔ یہ غیر آسٹریلوی ہے۔‘

محکمہ تعلیم کے حکام نے اس بات کی تردید کی کہ فیصلہ نسلی تعصب کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہ وہ اس زمین پر چالیس معذور بچوں کے لیے سکول بنانا چاہتے ہیں۔ نیو ساؤتھ ویلز میں ایک درجن سے زیادہ اسلامی درسگاہیں ہیں۔