فیس بک کے حصص مالکان کے لیے زرِ تلافی

فیس بک کے حصص اٹھارہ مئی کو اڑتیس ڈالر فی حصص کی قیمت پر فروخت کے لیے پیش کیے گئے تھے
،تصویر کا کیپشنفیس بک کے حصص اٹھارہ مئی کو اڑتیس ڈالر فی حصص کی قیمت پر فروخت کے لیے پیش کیے گئے تھے
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 1 منٹ

نیویارک کی نیسڈیک سٹاک ایکسچینج نے فیس بک کے حصص مالکان کو چار کروڑ ڈالر بطور زرِ تلافی دینے کی پیشکش کی ہے۔

یہ افراد اس دن کمپیوٹر کی خرابی کی وجہ سے اپنے حصص کی خریدوفروخت نہیں کر سکے تھے جس دن فیس بک نے پہلی مرتبہ اپنے شیئر بازارِ حصص میں پیش کیے تھے۔

کچھ سرمایہ کار اس دن فیس بک کے حصص میں خریداروں کی بےحد دلچسپی کی وجہ سے انہیں فوراً فروخت کرنا چاہتے تھے لیکن تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے کئی سرمایہ کار ابتداء میں حصص کی خریدو فروخت نہ کر سکے۔

یہ زرِ تلافی ان افراد کے لیے جنہیں اس تکنیکی خرابی کی وجہ سے مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ خیال رہے کہ اس خرابی کی وجہ سے فیس بک کے حصص کی فروخت آدھے گھنٹے تاخیر سے شروع ہوئی تھی۔

فیس بک کے حصص اٹھارہ مئی کو اڑتیس ڈالر فی حصص کی قیمت پر فروخت کے لیے پیش کیے گئے تھے۔ ابتدائی طور پر ان کی قیمت تیزی سے بڑھی تھی اور بہت سے خریدار اس تیزی کا فائدہ اٹھانے کے خواہشمند تھے لیکن محروم رہے تھے۔

ویب سائٹ کے حصص میں آنے والی یہ تیزی عارضی ثابت ہوئی تھی اور دن کے اختتام پر جہاں یہ اپنی اصل قیمت پر واپس پہنچ گئے تھے وہیں اب ان کی قدر مزید گر گئی ہے اور اڑتیس ڈالر کا شیئر اب پچیس ڈالر میں فروخت ہو رہا ہے۔

نیسڈیک کا کہنا ہے کہ وہ ان سرمایہ کاروں کو رقم لوٹائے گا جنہوں نے فروخت کے ابتدائی دن بیالیس ڈالر یا اس سے کم قیمت پر حصص فروخت کرنے کی کوشش کی تھی اور وہ یا تو حصص فروخت نہ کر سکے یا انہیں کم قیمت پر فروخت کرنا پڑے۔

ماضی میں نیسڈیک نے تکنیکی خرابیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ تیس لاکھ ڈالر کی رقم بطور زرِ تلافی دی ہے۔

نیسڈیک کے حریف بازارِ حصص نیویارک سٹاک ایکسچینج نے نیسڈیک پر الزام لگایا ہے کہ وہ خود کو غیرمنصفانہ فائدہ دے رہی ہے۔