
یہ کتاب مصنف نے مارک اوون کے فرضی نام سے لکھی ہے جس میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کی کاروائی کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا گیا ہے۔
امریکی محکمۂ دفاع پینٹا گون نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے شائع ہونے والی کتاب نو ایزی ڈے کے مصنف اور امریکی بحریہ کےسابقہ اعلیٰ اہلکار پر مقدمہ کر سکتی ہے جنہوں نے اسامہ بن لادن کے قتل کے لیے کی جانے والی کارروائی میں حصہ لیا تھا۔
محکمۂ دفاع یعنی پینٹاگون کے اعلیٰ وکیل نے بحریہ کے اس سابق سیل کو ایک خط کے ذریعے مطلع کیا ہے کہ انہوں نے اپنے اُس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جس میں انہوں نے فوجی خفیہ رازوں کو فاش نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق مذکورہ سیل نے دو ہزار سات میں دو خفیہ معلومات افشاء نہ کرنے والے فارمز پر دستخط کیے تھے۔
امریکی محکمۂ دفاع، وائٹ ہاؤس اور سی آئی اے میں سے کسی نے اشاعت سے پہلے اس کتاب پر نظر ثانی نہیں کی ہے۔
دوسری طرف حکام نے متنبہ کیا ہے کہ اس کتاب کے مصنف کو خفیہ معلومات کو غلط طریقے سے افشاء کرنے پر فوجداری الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پینٹاگون کے وکیل جیہ جانسن نے اس کتاب کے مصنف کو خط لکھا جس میں ان پر یہ واضح کیا کہ ان کے دستخط شدہ ’نان ڈسکلوژر‘ یا خفیہ معلومات افشاء نہ کرنے کے فارم کی رو سے وہ کبھی بھی یہ خفیہ معلومات افشاء نہیں کر سکتے ہیں۔
اس خط میں مصنف کو لکھا گیا ہے کہ ’محکمۂ دفاع کے فیصلے کے مطابق آپ نے مواد افشاء نہ کرنے کے جس فارم پر دستخط کر رکھے ہیں ان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معاہدہ شکنی کی ہے‘۔
اس خط میں یہ بھی لکھا گیا کہ پینٹاگان ’قانونی طور پر میسّر ہر ممکن حل‘ پر غور کررہا ہے۔
گزشتہ ہفتے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس کتاب میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا واقعہ سرکاری طور پر بیان کی گئی کہانی کے واقعات سے مختلف بیان کیا گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو اس کتاب کا ایک مسودہ پہلے سے مہیا کیا گیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسامہ بن لادن کو اُسی وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جب انہوں نے اپنے کمرے سے باہر جھانکا تھا اور اسی دوران امریکی بحریہ کے سیلز سیڑھیوں پر چڑھ کر اسامہ کے کمرے کی طرف جارہے تھے۔
دوسری طرف امریکی حکام کے بیان کردہ واقعے کے مطابق اسامہ بن لادن کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ باہر جھانکنے کے بعد اپنا سر دروازے سے اندر کر چکے تھے جس پر یہ خدشہ تھا اسامہ شاید کوئی ہتھیار اٹھانے لگے تھے۔
اس کتاب میں میں یہ بھی افشاء کیا گیا ہے کہ کمانڈوز جہنوں نے اس کارروائی میں حصہ لیا تھا امریکی صدر باراک اوباما کو زیادہ پسند نہیں کرتے تھے مگر اس بات پر خوش تھے کہ انہوں نے اس کارروائی کو کرنے کی اجازت دی۔






























