’خواتین پر جنگ میں حصہ لینے پر پابندی ختم‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 24 جنوری 2013 ,‭ 00:27 GMT 05:27 PST

امریکی محکمۂ دفاع کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق وزیر دفاع لیون پنیٹا نے امریکی فوج میں خواتین کی جنگی کارروائیوں میں حصہ لینے پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خواتین کے میدان جنگ میں حصہ لینے کی صورت میں فرنٹ لائن پوزیشنز اور ایلیٹ کمانڈوز میں خواتین کے لیے روز گار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔

پابندی پر خاتمے سے سنہ انیس سو چرانوے میں بنایا گیا ایک قانون ختم ہو جائے گا جس کے تحت خواتین جنگ میں حصہ لینے والے چھوٹے یونٹس کا حصہ نہیں بن سکتی تھیں۔

توقع ہے کہ اس فیصلے کا باضابط اعلان جمعرات کو کیا جائے گا۔

ایک اعلیٰ دفاعی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ’پالیسی میں تبدیلی کے بعد اس کے نفاذ کے منصوبے پر کام کیا جائے گا۔ وزیر دفاع نے پالیسی میں تبدیلی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی تجویز پر کی ہے‘۔

فوجی سربراہان سے کہا جائے گا کہ وہ پندرہ مئی تک وزیر دفاع کو نئی پالیسی پر عمل درآمد سے متعلق ابتدائی منصوبہ پیش کریں۔

توقع ہے کہ فوج میں خواتین کے لیے کچھ نوکریاں اسی سال شروع ہو جائیں گی جبکہ سپیشل سروسز نیول سیلز اور ڈیلٹا فورس میں نئی نوکریاں شروع ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔

اس فیصلے سے فوج میں دو لاکھ تیس ہزار خواتین کو روز گار ملے گا اور ان میں سے زیادہ تر زمینی فوجی دستوں میں شامل ہوں گی۔

سینیٹ میں مسلح افواج سے متعلق کمیٹی کے چیئرمین کیرل لیون نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا ’وہ اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں اور یہ اکسیویں صدی میں فوجی کارروائیوں کی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے‘۔

امریکی محکمۂ دفاع نے گزشتہ سال اس وقت خواتین پر پابندیوں کو نرم کیا تھا جب فرنٹ لائن پر ان کے لیے چودہ ہزار پانچ سو ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے گئے تھے اور اس سے پہلے فرنٹ لائن پر خواتین پر اس قسم کی ذمہ داریاں ادا کرنے پر پابندی تھی۔

عراق اور افغانستان جنگ کے دوران خواتین فوجی اہلکاروں نے طبی عملے، ملڑی پولیس اور انٹیلیجنس افسروں کے طور پر کام کیا تھا اور بعض اوقات انہیں فرنٹ لائن پر بھیجا جاتا تھا لیکن سرکاری طور پر انہیں فرنٹ لائن یونٹس کا حصہ نہیں بنایا جاتا تھا۔

سال دو ہزار بارہ تک ان جنگوں میں آٹھ سو خواتین اہلکار زخمی ہوئیں اور ایک سو تیس کے قریب ہلاک ہوئیں۔

اس وقت امریکہ کی چودہ لاکھ حاضر سروس فوج میں خواتین کا تناسب چودہ فیصد ہے۔

گزشتہ سال نومبر میں فوج میں چار خواتین نے محکمۂ دفاع کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ جنگ میں حصہ لینے پر پابندی غیر قانونی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔