جہادیوں کی وطن واپسی کا نازک مسئلہ

برطانوی شہری عبد الرقیب امین کو جولائی میں جاری ایک ویڈیو میں دیکھا گیا

،تصویر کا ذریعہisis

،تصویر کا کیپشنبرطانوی شہری عبد الرقیب امین کو جولائی میں جاری ایک ویڈیو میں دیکھا گیا
    • مصنف, میرن گیڈا
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت

امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ شام میں جنگجوؤں کے ساتھ 80 ممالک کے 15 ہزار سے زیادہ غیر ملکی جنگجو لڑ رہے ہیں۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ بعض ممالک نے شام جانے والوں کو روکنے کی کوششوں میں اضافہ کیا ہے جبکہ بہت سے ممالک نے اس طرف سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ تاہم دونوں طرح کے ممالک کو اس بات پر ایک جیسے مسئلے کا سامنا ہے کہ جب وہ جہادی لوٹیں گے تو ان کا کیا جائے؟

تجزیہ کار حالیہ تصادم اور سنہ 1980 کی دہائی میں ہونے والی افغان جنگ سے ابھرنے والی صورت حال کا موازنہ کر رہے ہیں۔ اس وقت بھی روس کے خلاف مجاہدین کا ساتھ دینے کے لیے دنیا بھر سے غیر ملکی جنگجو یکجا ہوئے تھے۔

ایک دہائی تک جاری رہنے والی وہ لڑائی سنہ 1989 میں اسلام پسندوں کی جیت پر ختم ہوئی لیکن بہت سے بیرونی جنگجوؤں کے لیے جنگ ختم نہیں ہوئی۔

ایسا ہی ایک نام اسامہ بن لادن کا ہے جنھوں نے مجاہدین کے ساتھ جنگ میں شرکت کی تھی اور واپس لوٹنے کے بعد مصر اور الجزائر میں حملے شروع کر دیے۔

کوئی نہیں چاہتا کہ شام سے بھی ایسی کوئی شخصیت ابھرے لیکن اس بات پر اتفاق رائے نہیں ہے کہ اس بات کو روکا کیسے جائے؟

دولت اسلامیہ کا ویڈیو جس میں شام کی جنگ میں شریک ہونے کا پیغام دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندولت اسلامیہ کا ویڈیو جس میں شام کی جنگ میں شریک ہونے کا پیغام دیا گیا ہے

ستمبر میں بیلجیئم نے شریعہ برائے بلجیئم (Sharia4Belgium) کے 46 ارکان کے خلاف مقدمہ درج کیا جو وہیں کے شہری تھے۔ واضح رہے کہ یہ گروپ ملک سے شام کے لیے جنگجو بھیجتا ہے۔

بیلجیئم واحد ملک نہیں جہاں اس قسم کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ فرانس، آسٹریلیا، ناروے، اور برطانیہ جیسے ممالک سے بھی بڑی تعداد میں جنگجو باہر جاتے ہیں۔ ان ممالک نے واپس آنے والے کئی جہادیوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ ان میں سے بعض نے دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر رکھی تھی۔

برطانیہ کی پولیس کا کہنا ہے کہ رواں سال ابھی تک انھوں نے 218 افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان میں سے 40 کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا جائے گا۔

نومبر کے اخیر میں حکومتِ برطانیہ انسداد دہشت گردی کے نئے قانون کا اعلان کرنے والی ہے۔

آسٹریلوی وزیر اعظم کی حکومت نے ایک نیا انسدادِ دہشت گردی قانون منظور کیا ہے جبکہ انھوں نے بیرون ملک لڑنے والے اپنے شہریوں پر واضح کر دیا ہے کہ ’واپس آنے پر انھیں حراست میں لے لیا جائے گا کیونکہ ہماری حکومت اپنے معاشرے کو محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔‘

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ رواں سال ابھی تک انھوں نے 218 افراد کو گرفتار کیا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنبرطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ رواں سال ابھی تک انھوں نے 218 افراد کو گرفتار کیا ہے

لیکن کسے حراست میں لینا ہے، یہ طے کر پانا قدرے مشکل ہے، البتہ گرفتار کرنے کی خواہش سمجھ میں آتی ہے۔ جب دولت اسلامیہ دنیا کی نظروں میں آئی تو انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ مغرب ان کے نشانے پر نہیں ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ان کا مقصد مشرق وسطیٰ میں خلافت قائم کرنا ہے۔

اب صورت حال بدل چکی ہے۔ مغرب کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملوں نے انھیں بدظن کر دیا ہے اور انھوں نے بقول اپنے بطورِ انتقام برطانوی اور امریکی شہریوں کا سر قلم کیا ہے، جبکہ اس سے متعلق ویڈیوز میں مغرب کو دھمکی دی گئی ہے۔

ان کی دھمکی سے ڈنمارک کے حکام نے آرہوس کے ساحلی شہر میں اپنے کام میں تبدیلی نہیں کی۔ اس کے برعکس وہ واپس آنے والے جہادیوں کی کونسلنگ کر رہے ہیں اور کریئر کے متعلق مشورے فراہم کر رہے ہیں۔

امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ بہت سے جنگجو ڈنمارک کے لچکیلے رویے اور پیش کش سے متاثر ہوں گے۔ سینکڑوں جنگجو ویڈیوز دیکھ کر شام کے لیے روانہ تو ہو جاتے ہیں لیکن ویڈیو کے پیغام اور زمینی حقیقت میں تفاوت ہوتا ہے اور ایک بار شام جا کر وہاں سے لوٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔

سعودی عرب میں صورت حال قدرے مختلف ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب میں صورت حال قدرے مختلف ہے

لندن کے کنگز کالج کے پروفیسر پیٹر نیومین نے ٹائمز اخبار کو بتایا کہ کم از کم 30 برطانوی جہادیوں نے ان سے لوٹنے کی خواہش ظاہر کی ہے لیکن انھیں وطن واپسی پر گرفتاری کا خوف بھی ہے۔

شام کے سرحدی شہر کوبانی میں اکتوبر میں مارے جانے والے برطانوی شہری محمد مہدی حسن کے اہل خانہ نے ان کے قتل کا الزام حکومت پر لگاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے جنگجوؤں کی واپسی مشکل بنا دی ہے۔

تاہم سعودی عرب اس سلسلے میں زیادہ پریشان نہیں ہے۔ ہر چند کہ یہ ملک اپنی سخت سزاؤں کے لیے بدنام ہے، وہ کئی سالوں سے جہادیوں کی بحالی کا پروگرام چلا رہا ہے۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں گوانتانامو بے کے قیدیوں کی بحالی کے لیے ایک وسیع مرکز قائم کیا گیا تھا تاہم یہ مسلم شدت پسندوں کو تعلیم اور روزگار کے لیے مشورے فراہم کرتا ہے۔ اس نے 90 فی صد کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔

بہر حال مختلف ممالک اور ديگر اداروں کا کہنا ہے کہ صورت حال جیسی ہو، ان جہادیوں پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔