’دولتِ اسلامیہ سے رحم کی توقع احمقانہ سوچ ہے‘

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, لوسی ویلیمسن
- عہدہ, بی بی نیوز، پیرس
- وقت اشاعت
برطانوی عسکریت پسند ’جہادی جان‘ کی قید میں دس ماہ تک رہنے والے ایک مغوی نے بی بی سی کو اپنی قید کے اور انہیں حراست میں رکھنے والوں سے بات چیت کے بارے میں بتایا۔
نکولس ہینن نے اپنے ساتھی صحافی پیئری ٹارس کے ساتھ قید کے دنوں میں بچوں کے لیے ایک کتاب لکھی۔
’وِل ڈیڈی ہیج ہاگ ایور کم ہوم‘ (کیا ڈیڈی سیہہ کبھی گھر واپس آئیں گے) نامی کتاب ہینن نے اپنی پانچ سالہ بیٹی کے لیے لکھی اور یہ گذشتہ ہفتے شائع کی گئی ہے۔ دونوں صحافیوں نے اسے مخفی رکھتے ہوئے رات کے اوقات میں پنیر کے لفافوں پر تحریر کیا تھا۔
ہینن کے مطابق یہ کہانی دوران قید بوریت کے لمحات میں کھیلے گئے ایک کھیل سے پیدا ہوئی۔ یہ کھیل برطانوی فلاحی کارکن ڈیوڈ ہینز نے تجویز کیا تھا جنھیں بعد ازاں قتل کر دیا گیا تھا۔
ہینن بتاتے ہیں کہ ’ہمیں بتانا تھا کہ کون سا جانور ہے جو آپ کی شخصیت کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔‘
میں نے ہیج ہاگ (سیہہ) کا انتخاب کیا۔ مجھے ایک اچھی حفاظت کا خیال پسند تھا۔ حالانکہ سیہہ کی حفاظت مکمل طور پر بے وقوفانہ ہے۔‘
’وہ قید میں بھی وہی احمقانہ طریقہ اختیار کرتا ہے۔ میں گیند کی طرح گول ہو جاؤں گا۔‘
’لیکن دورانِ قید تحفظ کے لیے کوئی بھی تدبیر کام نہیں کرتی۔ آپ صرف ایک پتلے کی طرح ہوتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے اپنے ساتھی قیدیوں اور اپنے اغوا کاروں کی گفتگو کو بھی بیان کیا۔
ایسے تعلقات عموماً، خوراک اور دواؤں کے حصول کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ انھوں نے اغوا کاروں کے بارے میں کچھ متزلزل سی تفصیلات بھی فراہم کیں۔
’میں نے غور کیا کہ یہ جہادی مقامی تہذیب اور عرب یا مسلمان تہذیب کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ یہ دوسرے معاشروں کے بچے ہیں۔‘
’وہ ہماری زبانیں بولتے ہیں، ان کی ثقافتی اقدار بھی وہی ہیں جو ہماری ہیں۔ وہ بھی وہی فلمیں دیکھتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں، وہی کھیل کھیلتے ہیں جو ہمارے بچے کھیلتے ہیں۔ وہ ہماری ثقافت اور ہماری دنیا کی پیداوار ہیں۔‘
’انھوں نے سب دیکھا ہے ٹیلی ٹیوبیز سے گیم آف تھارن تک۔‘
ہینن نے بالخصوص محمد ایموازی المعروف ’جہادی جان‘ کے بارے میں بات کرنے سے انکار کیا کیونکہ ان کے ساتھی برطانوی صحافی جان کینٹائل تاحال تنظیم کی قید میں ہیں۔
کئی دوسرے مغویوں، برطانوی فلاحی کارکن ایلن ہننگ، امریکی صحافی جیمز فولی، سٹیفن سٹالف، پیٹر کیسج کو دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں قتل کر چکے ہیں۔
ہینن بتاتے ہیں کہ ایک روسی انجینیئر سرگے گوبانوف کو ان کی قید کے دوران قتل کیا گیا۔ قیدیوں نے ایک چھوٹی سی تقریب میں انھیں یاد کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP PHOTO HAND OUT
’سب نے انھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ جان کینٹائل نے پہلے بولا پھر ہم سب نے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔‘
ہینن نے بتایا کہ اپنی قید کے دس ماہ کےدوران انھوں نے اپنے اغوا کاروں سے بات کی۔ ان کے بقول انھیں کئی شبہات دکھائی دیے، کمزور عقائد، کیونکہ انھیں اپنے لیے جواز دینا پڑتا تھا، اور ان کے بعض اقدامات کی تو کوئی جواز ممکن ہی نہیں تھا۔‘
ہینن کے خیال میں کئی جہادی واقعی شام کے متاثرین کی مدد کرنا چاہتے تھے۔
لیکن وہ کہتے ہیں ’یہ کمزور لوگ ہیں۔ یہ جیسے ہی وہاں پہنچتے ہیں ان کے بھرتی کرنے والے انھیں جرم کرنے کے لیے پھنسا لیتے ہیں اور پھر ان کے لیے واپسی کا کوئی راستے نہیں رہتا۔‘
ہینن کہتے ہیں ’مجھے یاد ہے چند اغوا کاروں کے ساتھ گفتگو میں یہ صاف ظاہر تھا کہ ان کے عقائد کمزور ہیں۔ اور شاید انھیں اپنے کیے پر پچھتاوا بھی تھا۔‘
اس کے باوجود ان کے ساتھ رابطہ بہت مشکل تھا۔ تھوڑی بہت بات چیت شاید مددگار ہو لیکن اُن کے ہاں رحم کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ انھوں نے رحم کے لیے در بند کر دیے ہیں۔‘
’ان سے رحم مانگنا سب سے بدترین عمل ہوگا۔ یہ احمقانہ ہے۔ کبھی کوشش بھی مت کیجیئے گا۔‘



















