عالمی بازارِ حصص میں مندی، امریکہ میں خام تیل 40 ڈالر پر آ گیا

،تصویر کا ذریعہGetty
چین کے پیدواری شعبے میں سست رفتاری کے بعد عالمی بازارِ حصص میں شدید مندی دیکھی گئی اور خام تیل کی قیمت بھی 40 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی ہے۔
جبکہ لندن کے بازارِ حصص میں رواں سال کے دوان اب تک کی سب سے زیادہ کمی اس ہفتے کے دوران ریکارڈ کی گئی ہے۔
رواں ہفتے کے دوران فٹسی 100 انڈکس میں پانچ فیصد تک کی گراوٹ آئی جبکہ فرانس، جرمنی اور امریکہ کے بازار حصص میں بھی کمی کا رجحان دیکھا گیا۔
جمعے کو ختم ہونے والے کاروباری سیشن میں امریکی سٹاک مارکیٹ سٹینڈرڈ اینڈ پوروز میں 3.9 فیصد کمی آئی جو گذشتہ چار برسوں میں ایک دن کے دوران ہونے والی سب سے زیادہ کمی ہے۔
بازارِ حصص میں کمی کے ساتھ امریکی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت بھی کم ہوئی ہے اور خام تیل 40 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا ہے جو کہ اقتصادی بحران کے بعد اب تک کی کم ترین قیمت ہے۔
چین میں کارخانوں کی پیداوار کے حوالے سے جاری اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ چھ برسوں کے مقابلے اگست میں پیدواری شعبے کی ترقی میں سب سے زیادہ کمی ہوئی ہے۔
مینوفیکچرنگ پرچیزنگ انڈیکس 47.8 سے کم ہو کر 47.1 پر آ گیا ہے۔ اس اعدادوشمار کے بعد چین کے بازارِ حصص میں بھی مندی کا رجحان رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شنگھائی انڈیکس میں رواں ہفتے کے دوران مجموعی طور پر 12 فیصد کی کمی آئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے بازارِ حصص میں کمی حکومت کی جانب سے کرنسی کی قدر میں کمی اور سست پیداواری شرح کی وجہ سے ہوئي ہے۔
چین کے کارخانوں کی پیدواری ترقی کی شرح سنہ 2009 کے اقتصادی بحران کے بعد اب تک کی کم ترین سطح پر ہے۔

چین کی معیشت کا جائزہ لینے کے لیے مینوفیکچرنگ پرچیزنگ انڈیکس کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اس اشاریے کے مدد سے اقتصادی ترقی کی سمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
سنہ 2014 کے دوران چین کی اقتصادی شرح نمو 7.4 فیصد رہی جو سنہ 1990 کے بعد اب تک کی کم ترین سطح ہے۔
رواں سال جون کے بعد سے عالمی بازارِ حصص میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہر اقتصادیات نیکولیس تئیو کا کہنا ہے کہ چین کی معیشت میں سست روی سے عالمی اقتصادیات میں بہتری کی امیدیں دم توڑ جائیں گی۔
انھوں نے کہا: ’چین اب صرف دنیا کا کارخانہ نہیں ہے بلکہ یہ عالمی مصنوعات اور خدمات کی اہم منڈی بھی ہے۔ بہت سی کمپنیاں اور صنعتوں کا انحصار چین کے صارفین پر ہے۔ جن کی اب قوتِ خرید کم ہو رہی ہے۔‘
رواں ماہ کے آغاز میں چین کے مرکزی بینک نے ملکی کرنسی کی قدر کو ڈالر کے مقابلے میں کم کر دیا تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدام کا مقصد چین کی برآمدات کو بڑھانا ہے۔



















