کینیا کے سینکڑوں جنگجو الشباب کا ساتھ چھوڑ گئے

حالیہ عرصے میں کینیا میں الشباب کی جانب سے کئی حملے کیے گئے ہیں
،تصویر کا کیپشنحالیہ عرصے میں کینیا میں الشباب کی جانب سے کئی حملے کیے گئے ہیں
وقت اشاعت

عالمی تنظیم انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق صومالیہ میں سرگرم شدت پسند گروہ الشباب کے لیے بھرتی کیے گئے تقریباً 700 جنگجو گروہ کو چھوڑ کر کینیا واپس آگئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ان افراد کو معاشرے میں مناسب طریقے سے ضم نہیں کیا گیا تو مزید شدت پسندی پھیلنے کا اندیشہ ہے۔

خیال رہے کہ صومالیہ میں متحرک شدت پسند گروہ الشباب ہمسایہ ملک کینیا سے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کو بھرتی کرنے میں ملوث ہے۔

حالیہ عرصے میں کینیا میں الشباب کی جانب سے کئی حملے کیے گئے ہیں اور رواں برس کینیا کی ایک یورنیورسٹی پر کیے جانے والے ایک حملے میں 148 افراد مارے گئے تھے۔

اگرچہ اس رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا ہے کہ یہ لوگ کہاں سے واپس آئے ہیں لیکن کینیا کے مسلمانوں کی تنظیم ’سپریم کونسل آف کینیا مسلمز‘ کے جنرل سیکٹری حسن اولے ناڈو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ افراد الشباب کے لیے لڑ رہے تھے۔

تقریبن ایک تہائی بچوں کو گروپ میں شامل ہونے کے لئے مجبور کیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنتقریبن ایک تہائی بچوں کو گروپ میں شامل ہونے کے لئے مجبور کیا گیا تھا

36 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ آئی او ایم ، سپریم کونسل آف کینیا مسلمز اور کینیا کی وزارت داخلہ کی طرف سے مرتب کی گئی ہے ۔

اس رپورٹ کے مطابق زیادہ تر لوگ رضاکارانہ طور پر گروپ میں شامل ہوئے جبکہ بچوں سے کیے گئے انٹرویوز سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً ایک تہائی بچوں کو گروپ میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا تھا ۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی واپسی نے مسلح گروپوں کی بنیاد پرستی کے نظریات اور بھرتی کی حکمت عملی کا مقابلہ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کا واپس لوٹنے والوں کے ساتھ ناروا سلوک مزید شدت پسندی کو فروغ دیتا ہے اور ان لوگوں کے معاشرے میں انضمام کو مشکل بنا دیتا ہے۔