دولتِ اسلامیہ نے’تاوان نہ ملنے پر‘ دو مغویوں کو ہلاک کر دیا

،تصویر کا ذریعہISLAMIC STATE
نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے مطابق تاوان کی رقم ادا نہ کرنے پر اس نے ایک چینی اور ایک نارویجن شہری کو ہلاک کر دیا ہے۔
دولتِ اسلامیہ نے اپنے انگلش جریدے پر ہلاک کیے جانے والے دونوں افراد کے تصاویر جاری کی ہیں۔
دولتِ اسلامیہ نے ثبوت کے طور پر ان دونوں یرغمالیوں کی تصاویر جاری کی ہیں جن میں سے ایک تصویر میں یہ زندہ دکھائی دے رہے ہیں اور دوسری تصویر میں ان کی لاشیں نظر آ رہی ہیں۔
ناروے کی وزیراعظم ارنا ُسلبرگ نے 48 سالہ شہری اولے جان گرمزگارڈ کے ہلاکت کی بھرپور مذمت کی ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق وزیراعظم ارنا ُسلبرگ نے اخبار کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت ہلاکت کی تصدیق نہیں کر سکتی لیکن ہمارے پاس اس میں شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
’یہ ان کے خاندان اور پورے ملک کے لیے تکلیف دے ہے، دولتِ اسلامیہ ایک سفاک گروپ ہے،اگر تکلیف بھی پہنچے تو ہم تاوان ادا نہیں کرتے لیکن ہم دہشت گردی کو جیتنے نہیں دیں گے۔‘
دولتِ اسلامیہ نے دونوں شہریوں کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کی ہیں کہ انھیں کہاں سے اغوا کیا گیا۔
تاہم اولے جان گرمزگارڈ کی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر 24 جنوری کی پوسٹ میں بتایا گیا تھا کہ وہ شام کے شہر ادلب پہنچ گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اے پی کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ہونگ لی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھیں اپنے شہری کی ہلاکت کا معلوم ہوا ہے اور یہ صدمے کا باعث ہے۔
انھوں نے کہا کہ جب سے ان کے شہری دولتِ اسلامیہ کے تحویل میں تھے اس وقت سے حکومت نے ان کی بازیابی کی ہر ممکن کوشش کی۔
ترجمان کے مطابق ابھی مزید معلومات کی تصدیق کر رہے ہیں۔
اے پی کے مطابق چینی شہری کی شناخت 50 سالہ فان جینگو کے نام سے ہوئی ہے اور وہ بیجنگ کے رہائشی تھے۔
دولتِ اسلامیہ نے دونوں شہریوں کو اس وقت ہلاک کیا ہے جب پیرس میں حملوں اور روسی طیارے کے دہشت گردی کے وجہ سے تباہ ہونے کی تصدیق کے بعد فرانس اور روس نے شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔



















