پوتن کے ناقدین بندوق کے نشانے پر

روسی حزب اختلاف کے رہنماؤں نے اس ویڈیو کو قتل کی دھمکی قرار دیا ہے
،تصویر کا کیپشنروسی حزب اختلاف کے رہنماؤں نے اس ویڈیو کو قتل کی دھمکی قرار دیا ہے
وقت اشاعت

چیچنیا کے رہنما رمضان قادروف نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں روس کے حزب اختلاف کے رہنما میخائل کسیانوف کو بندوق کے نشانے پر دکھایا گیا ہے۔

سابق وزیراعظم میخائل کسیانوف کو روسی صدر ولادی میر ہوتن کا سخت ناقد سمجھا جاتا ہے اور ان کا تعلق آر پی آر پرناس پارٹی سے ہے۔

حال ہی میں رمضان قادروف نے ہوتن کے ناقدین کو ’دشمن‘ اور ’غدار‘ کہا تھا۔

روسی حزب اختلاف کے رہنماؤں نے اس ویڈیو کو قتل کی دھمکی قرار دیا ہے۔

گذشتہ مارچ میں رمضان قادروف نے انسٹاگرام پر حزب اختلاف کے رہنما بورس نیمستوف کے ماسکو میں قتل کے بارے میں بات کی تھی۔

اس پیغام میں انھوں نے ایک چیچنین ملزم کا دفاع کیا گیا تھا۔

اس کے ایک دن بعد صدر پوتن کی جانب سے رمضان قادروف کو ایک اعلیٰ اعزاز سے نوازا گیا تھا۔

حال ہی میں رمضان قادروف نے ہوتن کے ناقدین کو ’دشمن‘ اور ’غدار‘ کہا تھا
،تصویر کا کیپشنحال ہی میں رمضان قادروف نے ہوتن کے ناقدین کو ’دشمن‘ اور ’غدار‘ کہا تھا

خیال رہے کہ بورس نیمستوف گذشتہ ایک دہائی کے دوران صدر پوتن کے ایک ترین مخالفین میں سے تھے۔

واضح رہے کہ رمضان قادروف کی جانب سے چیچنیا میں سخت قوانین کا نفاذ ہے اور ان کی ذاتی ملیشیا پر انسانی حقوق کی پامالی، تشدد اور قتل کے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں۔

ان کے صدر پوتن کے ساتھ قریبی مراسم ہیں جن انھیں چیچنیا میں شورش ختم کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

1990 کی دہائی کے دوران روسی افواج کے ساتھ باغیوں کی لڑائی میں ہزاروں عام شہریوں کی موت بھی ہوئی تھی۔

میخائل کسیانوف کا کہنا ہے وہ اس ویڈیو کو براہ راست قتل کی دھمکی کی طور پر دیکھتے ہیں
،تصویر کا کیپشنمیخائل کسیانوف کا کہنا ہے وہ اس ویڈیو کو براہ راست قتل کی دھمکی کی طور پر دیکھتے ہیں

رمضان قادروف کی جانب سے نئی ویڈیو کریملین کے ناقدین کو دھمکی آمیز پیغامات بھیجنے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، جن پر ان کی جانب سے مغرب کے ساتھ کام کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

ویڈیو میں میخائل کسیانوف کو جمہوریت نواز تحریک اوپن رشیا سے تعلق رکھنے والے صحافی ولادی میر کارا مرزا سے بات کرتے دکھایا گیا ہے۔

میخائل کسیانوف کا کہنا ہے وہ اس ویڈیو کو براہ راست قتل کی دھمکی کی طور پر دیکھتے ہیں اور اس کی مجرمانہ تحقیقات کا مطالبہ کریں گے۔

آر پی آر پرناس کے شریک چیئرمین الیا یاشین کا کہنا ہے یہ ویڈیو ’کسیانوف کو قتل کرنے کی کھلی دھمکی ہے۔‘