بھارت کو تشویش نہیں ہونی چاہیے: امریکہ

وقت اشاعت

امریکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی فروخت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کی گئی ہے اور اس پر بھارت کو تشویش نہیں ہونی چاہیے۔

یہ بات امریکی وزارت دفاع کے ترجمان پیٹر کُک نے ہفتہ وار بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں کہی۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے امریکی کانگریس کو بتایا تھا کہ پاکستان کو آٹھ ایف 16 جنگی طیاروں کی فروخت کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان نے کہا کہ ’ایف 16 طیاروں کی پاکستان کو فراہمی کے فیصلے میں خطے کی سکیورٹی صورت حال کو مد نظر رکھا گیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات اور بھارت کے ساتھ تعلقات الگ الگ دیکھتے ہیں۔

’ہمارا خیال ہے کہ ایف 16 ملنے سے پاکستان موثر طور پر دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کر سکے گا اور یہ امریکہ کے قومی مفاد میں ہے‘
،تصویر کا کیپشن’ہمارا خیال ہے کہ ایف 16 ملنے سے پاکستان موثر طور پر دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کر سکے گا اور یہ امریکہ کے قومی مفاد میں ہے‘

’ہمارا خیال ہے کہ یہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے اہم ہے، اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت کو تشویش نہیں ہونی چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’اس صورت حال میں ہمارا خیال ہے کہ ایف 16 ملنے سے پاکستان موثر طور پر دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کر سکے گا اور یہ امریکہ کے قومی مفاد میں ہے۔‘

واضح رہے کہ بھارت نے پاکستان کو ایف 16 جنگی طیارے فروخت کرنے کے امریکہ کے فیصلے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے ٹویٹ کیا: ’ہم پاکستان کو ایف 16 طیارے فروخت کیے جانے کے سلسلے میں اوباما انتظامیہ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیے جانے سے مایوس ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا ’بھارت امریکہ کے اس خیال سے اتفاق نہیں رکھتا کہ ان طیاروں کی فروخت سے انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی۔‘

سوروپ نے کہا کہ گذشتہ کئی سالوں کا ریکارڈ خود اپنی کہانی بیان کرتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی اور پی ٹی آئی کے مطابق بھارت نے دہلی میں تعینات امریکی سفیر کو بلا کر پاکستان کو ایف 16 جنگی طیارے فروخت کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف ناراضی ظاہر کی۔