’پناہ گزینوں کے بارے میں پالیسی تبدیل نہیں ہوگی‘

انگیلا میرکل نے اپنی موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران برلن میں ایک پریس کانفرنس کی
،تصویر کا کیپشنانگیلا میرکل نے اپنی موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران برلن میں ایک پریس کانفرنس کی
وقت اشاعت

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا کہنا ہے کہ جرمنی میں پناہ کے متلاشی افراد کے حالیہ حملوں میں ملوث ہونے کے باوجود پناہ گزینوں کو لینے کی ان کی خواہش تبدیل نہیں ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حملہ آور ہماری برادری کی سوچ، ہمارے کھلے پن اور ضرورت مند افراد کی مدد کرنے کی خواہش کو کمزور کرنا چاہتے تھے، ہم اسے واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔‘

انگیلا میرکل نے سکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔

ان اقدامات میں معلومات کا تبادلہ، ویب پر بات چیت کرنے والوں کی نگرانی اور انٹرنیٹ پر اسلحے کی فروخت پر قابو پانا شامل ہے۔

انگیلا میرکل نے اپنی موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران برلن میں ایک پریس کانفرنس کی اور کہا کہ ’پناہ کے متلاشی وہ افراد جو ان حملوں میں ملوث تھے نے اس ملک کو شرمندہ کیا ہے جو ان کا خیر مقدم کر رہا ہے۔‘

تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’جو لوگ جنگ سے دور بھاگ رہے ہیں وہ تحفظ کا حق رکھتے ہیں اور جرمنی مستحق افراد کو پناہ دینے کے ہمارے اصولوں پر کاربند رہے گا۔‘

جرمنی میں حالیہ دنوں شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں
،تصویر کا کیپشنجرمنی میں حالیہ دنوں شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں

’عالمگیریت کے اس دور میں یہ ہماری تاریخی ذمہ داری اور تاریخی چیلنج ہے۔ ہم پہلے ہی گذشتہ 11 ماہ میں بہت بہت کچھ حاصل کر چکے ہیں۔‘

خیال رہے کہ بویریا میں ہونے والے حالیہ دونوں حملے پناہ گزینوں کی جانب سے کیے گئے تھے۔ اتوار کو آنسباغ میں ہونے والا حملہ جس میں 15 افراد زخمی ہوئے تھے ایک شامی شخص نے کیا تھا۔

جنوبی جرمنی کی ریاست بویریا کے شہر ویورسبرگ میں ٹرین میں کلہاڑی اور چاقو سے حملہ کرنے والے شخص کا تعلق افغانستان سے تھا جو پناہ کی تلاش میں یہاں آیا تھا۔ اس حملے میں پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔

ان دونوں حملہ آوروں نے خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے ساتھ وفاداری کا دعوی کیا تھا۔