’حلب سے محفوظ انخلا کے لیے راستہ کھولنے کا اعلان‘

جمعرات کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکومتی فورسز نے حلب شہر کے مزید علاقوں کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا ہے
،تصویر کا کیپشنجمعرات کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکومتی فورسز نے حلب شہر کے مزید علاقوں کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا ہے
وقت اشاعت

روس نے شامی سکیورٹی فورسز کے محاصرے میں حلب شہر سے عام شہریوں اور غیر مسلح باغیوں کے باہر نکلنے کے لیے راستے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

روسی وزیر دفاع سرگے شویگو کا کہنا ہے کہ تین راستے کھلے رہیں گے جبکہ چوتھا راستہ مسلح باغیوں کے لیے ہوگا۔

شام کے صدر نے بھی ان تمام باغیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے جو تین ماہ کے اندر اندر ہتھیار ڈال کر خود کو حوالے کر دیں۔

حکومتی فورسز نے حلب کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے اور باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں سے ان کا رابطہ منقطع کر دیا۔

شامی فورسز کو اس پیش قدمی میں روسی فضائیہ کے مدد حاصل ہے۔

باغی فورسز جو کہ صدر بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ لڑ رہی ہیں گذشتہ چار سالوں سے شہر کے مشرقی علاقوں پر قابض ہیں۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے کیونکہ اب بھی وہاں تین لاکھ لوگ موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ سٹیفن او برائن نے پیر کے روز کہا تھا کہ ’امکان ہے کہ کھانے پینے کی اشیا اگست کے وسط تک ختم ہو جائیں گی اور کئی طبی کیمپوں پر حملے جاری ہیں۔‘

سرگے شویگو نے ان راہداریوں کو ’بڑے پیمانے پر امدادی آپریشن قرار دیا ہے۔‘

خیال رہے کہ مارچ 2011 سے شام میں شروع ہونے والے اس تنازع کے بعد سے اب تک دو لاکھ 80 ہزار افراد ہلاک  ہو چکے ہیں
،تصویر کا کیپشنخیال رہے کہ مارچ 2011 سے شام میں شروع ہونے والے اس تنازع کے بعد سے اب تک دو لاکھ 80 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ ’اس کا مقصد پہلے اور فوری طور پر حلب کے رہائشیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ تین راہداریاں عام شہریوں اور غیر مسلح جنگجوؤں کے لیے ہوں گی اور وہاں ان کے لیے طبی کیمپ اور کھانے کی اشیا موجود ہوں گی۔ ان کے مطابق وہ بین الاقوامی امدادی اداروں کی جانب سے تعاون کا خیر مقدم کریں گے۔

جمعرات کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکومتی فورسز نے حلب شہر کے مزید علاقوں کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا ہے۔

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی صنا کے مطابق صدر بشار الاسد کی جانب سے عام معافی کا اعلان جمعرات کو جاری ہونے والے ایک حکم نامے میں کیا گیا ہے۔

اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’جس کسی کے پاس بھی ہتھیار ہیں اور وہ انصاف چاہتا ہے، تو سزا نہیں دی جائے گی اگر وہ خود کو حوالے کر دے اور ہتھیار ڈال دے۔‘

خیال رہے کہ مارچ 2011 سے شام میں شروع ہونے والے اس تنازع کے بعد سے اب تک دو لاکھ 80 ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔