لارک، قشم اور خارگ: وہ ایرانی جزائر جنھیں نشانہ بنانا تہران کی ’شہہ رگ‘ پر وار سمجھا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہGallo Images/Orbital Horizon/Copernicus Sentinel Data 2026
آبنائے ہرمز کے قریب لارک جزیرے پر اتوار کی شام امریکی حملے نے ایک بار پھر خلیج کے ساحل کے ساتھ واقع ایرانی جزیروں کی سٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔
جولائی کے بعد اپنی پہلی براہِ راست کارروائی میں امریکہ نے اعلان کیا کہ اس نے لارک جزیرے پر میزائل داغنے کے دو مقامات کو نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ انھوں نے قطر اور متحدہ عرب امارات میں ایک ایک فوجی اڈے جبکہ اردن میں تین فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے جوابی کارروائیاں کیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس میں جزیرہ لارک کو مکمل طور پر تباہ ہوتے دکھایا گیا ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ ایران سٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے ان جزیروں کو استعمال کر رہا ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی اسی آبنائے سے گزرتی تھی۔
اسی لیے ذیل میں ایران کے تین نمایاں جزیروں کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے، جن میں سے دو سٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں۔
لارک جزیرہ
لارک جزیرہ آبنائے ہرمز کے تنگ ترین مقام پر واقع ہے۔ یہ سٹریٹجک اہمیت کی حامل بندرگاہ، بندر عباس کے ساحل کے قریب، جزیرہ قشم کے مشرق اور جزیرہ ہرمز کے جنوب میں واقع ہے۔ جزیرے کا نام ’اراک‘ نامی درخت سے منسوب ہے، جو یہاں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے اور جس سے مسواک تیار کی جاتی ہے۔
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق تقریباً 75 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے اس جزیرے پر ایک فوجی تنصیب بھی موجود ہے۔ امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق جزیرے کو انتہائی مضبوط دفاعی حصار حاصل ہے، جس کی وجہ سے اسے نشانہ بنانا مشکل ہے۔ ایران آبنائے ہرمز کی نگرانی اور اس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے لارک کو استعمال کرتا ہے، جہاں بنکرز کا ایک نیٹ ورک اور حملہ آور کشتیاں موجود ہیں جو مال بردار بحری جہازوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
سنہ 1987 سے یہ جزیرہ تیل کی برآمد کے ایک اہم مرکز کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران اس وقت مطالبہ کر رہا ہے کہ تیل کے ٹینکر لارک جزیرے کے قریب سے گزرتے ہوئے معائنے کے لیے رکیں، جبکہ رپورٹس کے مطابق ایران جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے تقریباً 20 لاکھ ڈالر ادا کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب متعدد مرتبہ خبردار کر چکا ہے کہ بحری جہازوں کے لیے لارک جزیرے کے جنوب میں واقع گزرگاہ سے گزرنا ضروری ہے۔ تہران اسے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے بحری جہازوں کے لیے واحد منظور شدہ راستہ قرار دیتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بحری جہازوں سے متعلق اعداد و شمار سے بھی تصدیق ہوئی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے چند تجارتی بحری جہاز لارک جزیرے کے قریب سے گزر رہے ہیں۔
قشم

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
لارک جزیرے کے قریب ہی قشم جزیرہ واقع ہے، جس کا رقبہ 1,491 مربع کلومیٹر تک ہے۔ یہ جزیرہ 130 کلومیٹر طویل ہے جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی 11 سے 35 کلومیٹر کے درمیان ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق ڈولفن کی شکل سے مشابہ اس جزیرے، جسے ’لانگ آئی لینڈ‘ بھی کہا جاتا ہے، میں زیرِ زمین سرنگوں کے اندر بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائل، بارودی سرنگیں، ڈرونز اور دیگر حملہ آور کشتیاں موجود ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکہ نے قشم جزیرے پر متعدد مرتبہ شدید حملے کیے ہیں، جن میں گذشتہ ماہ ہونے والے حملوں کی ایک لہر بھی شامل تھی، جس میں تین افراد ہلاک ہوئے۔
قشم آبنائے ہرمز کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور یہاں نمک، تیل اور گیس سمیت متعدد قدرتی وسائل پائے جاتے ہیں۔ یہ جزیرہ طویل عرصے کے دوران جاندار انواع کی ابتدا اور ارتقا کے حوالے سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔
قشم کو اپنے جغرافیائی ورثے، جسے اقوامِ متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) نے تسلیم کر رکھا ہے، ساحلوں، مینگروو کے درختوں اور پُرسکون سماجی ماحول کے باعث ایک اہم سیاحتی مقام بھی ہے۔
خارگ
جزیرہ خارگ خلیج کے شمالی سرے پر ایرانی ساحل سے 26 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جبکہ آبنائے ہرمز سے تقریباً 483 کلومیٹر شمال مغرب میں ہے۔
جزیرے کا رقبہ اگرچہ صرف تقریباً 20 مربع کلومیٹر ہے، تاہم یہ ایران کی تیل برآمد کرنے کی مرکزی بندرگاہ اور ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا اہم ترین حصہ ہے۔
ایران کی خام تیل کی تقریباً 90 فیصد برآمدات اسی جزیرے سے گزرتی ہیں، جہاں سے تیل کے ٹینکر عموماً آبنائے ہرمز کے راستے عالمی منڈیوں کا رخ کرتے ہیں۔
جزیرے پر موجود تنصیبات روزانہ لاکھوں بیرل تیل بحری جہازوں میں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کے باعث یہ ایران کے تیل کے ذخائر اور عالمی منڈیوں کے درمیان ایک اہم رابطہ ہے۔
جزیرہ خارگ سمندر کے اندر بچھائی گئی پائپ لائنوں کے ذریعے ایران کے بعض بڑے تیل کے ذخائر سے منسلک ہے۔ تیل ان ذخائر سے جزیرے تک پہنچایا جاتا ہے، جہاں اسے بڑے ٹینکوں میں ذخیرہ کیا جاتا ہے اور بڑے ٹینکروں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ گھاٹ گہرے پانی تک موجود ہیں، جس سے بڑے بحری جہازوں کو لنگر انداز ہونے کی سہولت ملتی ہے۔

یہ انتظام اس لیے ضروری ہے کیونکہ ایران کا بیشتر ساحلی علاقہ نسبتاً کم گہرا ہے اور وہاں بڑے آئل ٹینکرز لنگر انداز نہیں ہو سکتے۔ اس طرح جزیرہ خارک ان چند مقامات میں شامل ہے جہاں بڑے پیمانے پر یہ کام انجام دیا جا سکتا ہے۔
اس کے بعد تیل بردار جہاز خلیج سے گزرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے باہر نکلتے ہیں اور چین کا رخ کرتے ہیں، جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
جزیرے پر تیل ذخیرہ کرنے کی بڑی تنصیبات، تیل برآمد کرنے کے لیے بندرگاہیں، کارکنوں کے لیے رہائشی عمارتیں اور ایک چھوٹا ہوائی اڈہ بھی موجود ہے، جو اسے ایرانی سرزمین سے منسلک کرتا ہے۔
سکیورٹی تجزیہ کار مائیکی کائے کے مطابق ’جزیرے پر قبضہ کرنے سے پاسدارانِ انقلاب کی معاشی زندگی کی اہم شہہ رگ عملی طور پر کٹ سکتی ہے، جس سے جنگ لڑنے کی ان کی صلاحیت متاثر ہوگی۔‘
ان کے مطابق ’جزیرے پر قبضہ ایرانی تیل کی برآمدات کو بھی مفلوج کر سکتا ہے اور امریکی فوج کو ایران کی سرزمین پر حملے کرنے کے لیے ایک اڈہ فراہم کر سکتا ہے۔‘
تاہم محتاط انداز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے سے امریکی افواج موجودہ فضائی کارروائیوں کے مقابلے میں ایرانی جوابی حملوں کی زیادہ براہِ راست زد میں بھی آ سکتی ہیں۔



















