مجتبیٰ خامنہ ای کا نیا ’تحریری پیغام‘: ایرانی رہبر اعلیٰ ابھی تک منظرِ عام پر کیوں نہیں آئے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اسلامی ممالک، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف متحد ہوں۔ یہ اپیل انھوں نے ایک تحریری پیغام میں کی، جسے ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے شائع کیا۔
یہ پیغام ان امریکی اور اسرائیلی حملوں کے چھ ماہ بعد سامنے آیا ہے جن میں ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تھے۔ ان کے قریبی حلقوں کے ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ان کی چوٹیں شدید نوعیت کی تھیں۔
ارنا کے مطابق، ہفتۂ وحدتِ اسلامی کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں خامنہ ای نے کہا کہ خطے کے رہنماؤں کو ’حقیقی دشمن کو پہچاننا، اس کی سازشوں کو سمجھنا اور ان کا مقابلہ کرنا‘ چاہیے، اور ان کا اشارہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب تھا۔
تاہم، سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب تمام بیانات تحریری صورت میں ہی جاری ہوئے ہیں۔ وہ اب تک عوام کے سامنے ظاہر نہیں ہوئے، جبکہ ایرانی حکام نے ان کی تقرری کے بعد سے ان کی کوئی تصویر، آڈیو یا ویڈیو بھی جاری نہیں کی۔ اس صورتحال نے ان کی صحت اور ملک کے معاملات پر ان کے عملی کنٹرول کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اور اسرائیل صرف اسلامی جمہوریہ ایران اور ’محورِ مزاحمت‘ کے مخالف نہیں ہیں، بلکہ مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے تمام اسلامی ممالک کے بھی مخالف ہیں، حتیٰ کہ ان ممالک کے بھی جو ان کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
انھوں نے ایران کے اندر بھی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور ایرانی عوام سے کہا کہ وہ اپنے درمیان اختلافات پیدا نہ ہونے دیں۔
چند دنوں کے اندر اندر یہ ان کا دوسرا پیغام ہے جس میں انھوں نے داخلی یکجہتی پر زور دیا ہے۔ 28 اگست کو شائع ہونے والے ایک پیغام میں بھی انھوں نے ایسے طرزِ گفتگو سے خبردار کیا تھا جو سماجی تقسیم کا باعث بن سکتا ہے، جیسا کہ ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا۔
کیا خلیجی ریاستوں کے لیے لب و لہجہ بدل گیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا جب جنگ کے دوران ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہو گئی تھی، جس کی ایک بڑی وجہ ایران کی جانب سے خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور دیگر مقامات کو نشانہ بنانا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
روئٹرز کے مطابق، جنگ شروع ہونے سے پہلے سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن کو ایران پر حملہ نہ کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اسی طرح سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ سعودی عرب اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
تاہم ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ایسے حملے کیے جو خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے تمام چھ رکن ممالک تک پھیلے، جیسا کہ روئٹرز کی ایک تحقیق میں بتایا گیا۔
یہ حملے صرف امریکی فوجی اڈوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور بعض شہری مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اس کے علاوہ، ایران کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کے باعث آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت انتہائی کم سطح تک گر گئی، جس سے توانائی کی برآمدات اور علاقائی تجارت متاثر ہوئی۔
ان حملوں پر خلیجی ممالک میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ قطر کے وزیرِ اعظم نے ایرانی اقدامات کو ’غداری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے اس کے باوجود کیے گئے جب خلیجی ممالک نے اپنی غیر جانب داری واضح کر دی تھی۔ سعودی وزیرِ خارجہ نے بھی کہا کہ تہران پر اعتماد ’ٹوٹ چکا ہے‘ اور سعودی عرب اپنے دفاع کے لیے فوجی اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
کشیدگی اگست میں دوبارہ بڑھی جب ایران نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے اس کی سرزمین پر مزید حملے کیے تو وہ خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ابوظہبی کی جانب سے ایران سے داغے گئے دو میزائلوں کی نشاندہی کے بعد متحدہ عرب امارات نے تہران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں اور مالی لین دین معطل کر دیا۔
اس کے باوجود رابطے کے ذرائع مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔ عمان اور قطر نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھیں، خصوصاً جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مذاکرات میں۔
ایران کے سابقہ بیانات اور دھمکیوں کے مقابلے میں مجتبیٰ خامنہ ای کے تازہ پیغام کا لہجہ نسبتاً مفاہمت پسندانہ تھا۔
انھوں نے خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کی اپیل کی اور تعاون کی زبان استعمال کی۔
تاہم اس پیغام میں خلیجی ممالک پر ہونے والے ایرانی حملوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، نہ ہی تعلقات کی بحالی کے لیے کوئی عملی تجویز پیش کی گئی۔ اس کے برعکس، اس میں خطے کے بعض ممالک کے واشنگٹن کے ساتھ جاری تعاون پر بالواسطہ تنقید بھی موجود تھی۔
مجتبیٰ خامنہ ای سپریم لیڈر کیسے بنے؟
امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اپنے والد کی ہلاکت کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران کی قیادت سنبھالی۔ یہ حملے 28 فروری سے شروع ہوئے تھے۔
اسی حملوں میں مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوئے تھے۔ رائٹرز سے بات کرنے والے ان کے قریبی حلقے کے تین افراد کے مطابق، انھیں چہرے اور ٹانگوں پر چوٹیں آئیں اور ان کا چہرہ بھی متاثر ہوا، تاہم خبر رساں ادارے نے کہا کہ وہ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
ایرانی حکام نے ان کی چوٹوں کی نوعیت کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔
8 مارچ کو، جنگ شروع ہونے کے آٹھ دن بعد، مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا۔ اس وقت ایران 1979 کے انقلاب کے بعد کے اپنے شدید ترین سیاسی اور عسکری بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا تھا۔
جنگ سے پہلے مجتبیٰ خامنہ ای پسِ پردہ کردار ادا کرتے تھے۔ وہ اپنے والد کے قریبی اور بااثر معاون سمجھے جاتے تھے اور عوامی سطح پر بہت کم نظر آتے تھے۔
تاہم ملک کا اعلیٰ ترین عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی ان کا مکمل طور پر منظرِ عام سے غائب رہنا مزید بحث کا باعث بن گیا ہے، کیونکہ ایران میں سپریم لیڈر کو سیاسی اور عسکری اہم فیصلوں میں حتمی اختیار حاصل ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ ابھی تک منظرِ عام پر کیوں نہیں آئے؟
ایرانی حکام مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی نظروں سے مسلسل غیر موجودگی کی وجہ ان کی چوٹوں سے جاری صحت یابی اور اس خدشے کو قرار دیتے ہیں کہ امریکہ یا اسرائیل دوبارہ انھیں نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
روئٹرز کے مطابق، ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ صرف محدود تعداد میں سرکاری شخصیات ہی براہِ راست مجتبیٰ خامنہ ای سے رابطہ رکھتی ہیں، اور حکام جان بوجھ کر ان کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کرتے تاکہ ایسی معلومات افشا نہ ہوں جو امریکہ کو ان کے مقام کا سراغ لگانے میں مدد دے سکیں۔
خبر رساں ادارے نے ان کے اندرونی حلقے کے ایک قریبی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ان کی صحت میں نمایاں بہتری آ رہی ہے اور وہ اب بھی مکمل طور پر باخبر ہیں اور فیصلہ سازی کے عمل میں شریک رہتے ہیں۔
تاہم حکام نے اب تک ان کی صحت سے متعلق کوئی عوامی طبی معلومات جاری نہیں کی ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق، ان کی تقرری کے بعد سے ان کی کوئی نئی تصویر، آڈیو ریکارڈنگ یا ویڈیو بھی جاری نہیں کی گئی۔
روئٹرز کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی تدفین کی تقریبات میں بھی شریک نہیں ہوئے اور ایرانی عوام سے ان کا رابطہ صرف تحریری پیغامات تک محدود رہا ہے، جو سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔
کیا وہ واقعی ایران کی قیادت کر رہے ہیں؟
روئٹرز سے گفتگو کرنے والے متعدد ایرانی حکام اور ذرائع کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اب بھی بڑے قومی معاملات میں حتمی فیصلہ کرنے والے رہنما ہیں، اور وہ باقاعدگی سے اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتیں کرتے ہیں جبکہ جنگ، معیشت اور خارجہ پالیسی سے متعلق رپورٹس وصول کرتے ہیں۔
روئٹرز کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 10 اگست کو کہا تھا کہ انھوں نے مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ سات گھنٹے طویل ملاقات کی۔
خبر رساں ادارے نے ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ریاستی اداروں کا معمول کے مطابق کام جاری رہنا اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر حکومتی مؤقف میں یکسانیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سپریم لیڈر اب بھی ملک کی قیادت کر رہے ہیں۔
تاہم، اس بات کی کوئی آزاد اور عوامی سطح پر دستیاب تصدیق موجود نہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای ان اجلاسوں میں کس نوعیت سے شریک ہوتے ہیں یا فیصلہ سازی میں ان کا حقیقی کردار کیا ہے۔
دوسری جانب، ان کی مسلسل عوامی غیر موجودگی نے ایرانی عوام، حتیٰ کہ نظام کے بعض حامیوں کے درمیان بھی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ رائٹرز نے بسیج فورس کے ایک رکن کے حوالے سے لکھا کہ اگر عوام سپریم لیڈر کی آواز سن سکیں یا ان کی موجودگی کا کوئی واضح ثبوت دیکھ سکیں تو اس سے ملکی قیادت پر اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
روئٹرز نے ایک اصلاح پسند رجحان رکھنے والے ایرانی تاجر کا موقف بھی نقل کیا، جس نے سرکاری بیانیے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام کے سامنے ایسی کوئی واضح شہادت موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ عملی طور پر فیصلہ سازی میں بھی شریک ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کی عوامی نظروں سے دوری کے دوران ایران کیسے چلایا جا رہا ہے؟
روئٹرز کے مطابق، ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے روزمرہ حکومتی امور چلانے کے لیے اپنے اختیارات کا ایک بڑا حصہ سینئر حکام کے ایک گروپ کو منتقل کر رکھا ہے، تاہم انہی ذرائع کے مطابق اہم اور تزویراتی فیصلوں میں آخری اختیار اب بھی ان کے پاس ہے۔
روئٹرز سے بات کرنے والے ذرائع کے مطابق، اقتدار کے اعلیٰ ترین حلقے میں پاسدارانِ انقلاب (ایرانی انقلابی گارڈ) کے اہم کمانڈر، صدر مسعود پزشکیان، پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے متعدد عہدیدار شامل ہیں۔
روئٹرز کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد پاسدارانِ انقلاب کا اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا ہے اور وہ اب فیصلہ سازی کے عمل میں پہلے سے زیادہ نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ حکومتی ڈھانچے کو بھی بڑی حد تک سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے گرد منظم کیا گیا ہے۔
یہ صورتِ حال ان تحقیقی جائزوں سے بھی میل کھاتی ہے جو کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس اور گلف انٹرنیشنل فورم سمیت مختلف تھنک ٹینکس نے شائع کیے ہیں۔ ان تجزیوں کے مطابق ایران میں حکمرانی کا عمل پہلے کے مقابلے میں زیادہ اجتماعی نوعیت اختیار کر چکا ہے اور تزویراتی فیصلوں میں پاسدارانِ انقلاب کا کردار بڑھ رہا ہے۔
کارنیگی فاؤنڈیشن میں شائع ہونے والے ایک تجزیاتی مضمون میں محقق محمد آیت اللہی تبار نے لکھا کہ ایران کے نظامِ حکومت کو کسی ایک شخص یا چند افراد تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق فیصلے اداروں اور رہنماؤں کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے کیے جاتے ہیں، اور بعض معاملات میں یہ فیصلے سپریم لیڈر اور پاسدارانِ انقلاب کی اعلیٰ قیادت کے درمیان اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتے ہیں۔
واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے ماہر الیکس وتانکا کا خیال ہے کہ اگر مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی غیر موجودگی طویل ہو جاتی ہے تو نظام کے اندر موجود مختلف طاقتور دھڑے اپنے اپنے موقف کو سپریم لیڈر کی مرضی قرار دینے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس سے اندرونی طاقت کے مراکز کے درمیان مسابقت مزید بڑھ سکتی ہے۔
انھیں کن چیلنجز کا سامنا ہے؟
خامنہ ای کا یہ پیغام ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران جنگ، اقتصادی دباؤ اور علاقائی کشیدگی کے چھ ماہ بعد متعدد سنگین چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔
جنگ کے باوجود ایرانی نظامِ حکومت اپنی بنیادی ساخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے، حالانکہ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ فوجی و سیاسی شخصیات ہلاک ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود ایران اب بھی خطے میں توانائی کی فراہمی متاثر کرنے اور امریکی یا امریکی اتحادی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم، سب سے بڑا چیلنج معیشت کو درپیش ہے۔ جنگی اخراجات، امریکی پابندیاں اور تیل کی برآمدات میں کمی نے ایرانی معیشت پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایرانی کرنسی کی قدر کم ہوئی ہے اور حکومت کو اس بات کا خدشہ ہے کہ عوامی معاشی مشکلات ایک بار پھر اندرونی احتجاجی تحریکوں کو جنم دے سکتی ہیں۔
روئٹرز سے بات کرنے والے ذرائع کے مطابق، ایرانی قیادت نے اپنی ترجیحات ازسرِنو طے کرتے ہوئے تین اہم اہداف پر توجہ مرکوز کی ہے: نظام کی بقا کو یقینی بنانا، ایران کی دفاعی اور بازدارانہ صلاحیت بحال کرنا، اور اقتصادی بحران کے سیاسی استحکام پر منفی اثرات کو روکنا۔
واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے ماہر الیکس وتانکا کے مطابق، ایران کو مستقبل میں دو بڑے تزویراتی فیصلوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑ سکتا ہے: امریکہ کے ساتھ کسی حقیقی اور پائیدار معاہدے کی طرف بڑھنا، یا ایک طویل اور مہنگی محاذ آرائی جاری رکھنا۔ ان کے بقول، دونوں صورتوں میں واضح اور غیر مبہم منظوری سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے درکار ہوگی۔



















