کہیں ایوارڈ واپس کرنے کا الٹا اثر نہ ہو؟

ایوارڈ لوٹانے کا چلن ایک زمانے سے رائج ہے لیکن حالیہ سلسلہ ایک بڑا سیاسی پیغام ہے
،تصویر کا کیپشنایوارڈ لوٹانے کا چلن ایک زمانے سے رائج ہے لیکن حالیہ سلسلہ ایک بڑا سیاسی پیغام ہے
    • مصنف, ریحان فضل
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، نئی دہلی
  • وقت اشاعت

میرے خیال میں تقریباً ہر مصنف اور آرٹسٹ یہ کہلانا پسند کرتا ہے کہ وہ غیر سیاسی ہے لیکن تخلیقی صلاحیتیں خلا میں نہیں پیدا ہوتیں۔ ہر طرح کی تخلیق میں سیاست کا کچھ نہ کچھ عنصر ضرور ہوتا ہے اور بھارت میں ایوارڈ واپس کرنے کا سلسلہ دانشوروں کی جانب سے ایک طرح کا سخت سیاسی پیغام ہے۔

امریکی ناول نگار ٹونی موریسن نے ایک جگہ کتنا درست لکھا تھا ’جو لوگ ’سٹیٹس کو‘ کو پسند کرتے ہیں اور سیاسی نہ ہونے کی بہت زیادہ کوشش کرتے ہیں، وہ اصل میں سیاسی فکر والے افراد ہوتے ہیں۔‘

<link type="page"><caption> ’کیا تاج محل کو بھی توڑ دیں گے؟‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/10/151014_writers_protest_intolerance_sz.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> مودی حکومت کے خلاف بطورِ احتجاج ایوارڈ واپس</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/10/151007_award_returned_protesting_modi_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

ساہتیہ اکیڈمی یا پدم ایوارڈز واپس کرنے والے لوگوں کی حمایت یا مخالفت میں بہت سے دلائل دیے جا سکتے ہیں لیکن یہ بات اکثر لوگ تسلیم کریں گے کہ ان کے ان اقدام نے ملک میں روز افزوں عدم رواداری کی جانب سب کی توجہ ضرور مرکوز کی ہے۔

بھارت میں سب سے پہلے ربندر ناتھ ٹیگور نے سر کا خطاب واپس کیا تھا
،تصویر کا کیپشنبھارت میں سب سے پہلے ربندر ناتھ ٹیگور نے سر کا خطاب واپس کیا تھا

انعام واپس کرنے کی ابتدا ہندوستانی دانشور رابندر ناتھ ٹیگور نے کی تھی جب انھوں نے جلياں والا باغ واقعے کے خلاف بطور احتجاج انگریزوں کی جانب سے دیا جانے والا نائٹ ہڈ یعنی سر کا خطاب واپس کر دیا تھا۔

جہاں تک پدم ایوارڈز کی بات ہے پہلے بھی بہت سے لوگوں نے حکومت کے کسی قدم کے خلاف یا تو اسے واپس کیا ہے یا اسے لینے سے انکار کیا ہے۔

معروف مصنف خوشونت سنگھ نے ’آپریشن بلیو سٹار‘ کی مخالفت میں اپنا پدم بھوشن واپس کر دیا تھا۔

ڈرامے کے شعبے کی معروف شخصیت رتن تھیم نے ناگا جنگ بندی میں توسیع کی مخالفت میں سنہ 2001 میں اپنے پدم شری ایوارڈ کو واپس کر دیا تھا۔

پدم ایوارڈز کی جانبداری پر شروع سے ہی سوال کیے جاتے رہے ہیں۔ اس پر پہلا سوال سنہ 1950 کی دہائی میں اس وقت کے وزیر تعلیم مولانا آزاد نے اٹھایا تھا جب انھوں نے خود کو بھارت رتن دیے جانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایوارڈ کا انتخاب کرنے والے لوگ خود کو ہی ایوارڈ دینے کا حق نہیں رکھتے۔

مولانا ابوالکلام آزاد نے یہ کہتے ہوئے بھارت رتن لینے سے انکار کر دیا تھا کہ انعام دینے والے خود انعام نہیں رکھ سکتے
،تصویر کا کیپشنمولانا ابوالکلام آزاد نے یہ کہتے ہوئے بھارت رتن لینے سے انکار کر دیا تھا کہ انعام دینے والے خود انعام نہیں رکھ سکتے

ایسی مثالیں تقریبا نہیں کے برابر ہیں جب کسی حکومت نے اپنے سیاسی مخالفین کو اس اعزاز کے لیے منتخب کیا ہو۔

اس میں ایک استثنی ہے کہ جب سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ کی قیادت والی حکومت نے اپوزیشن پارٹی کے اٹل بہاری واجپئی کو پدموبھوش دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

جے پرکاش نارائن اور رام منوہر لوہیا جیسے لوگ ان ایوارڈز سے اس لیے محروم رہ گئے کیونکہ اس وقت کی حکومت ان کے حق میں نہیں تھی۔

کانگریس لیڈر ششی تھرور کا کہنا ہے کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قابل مذمت ضرور ہے لیکن احتجاج کرنے کا یہ انداز حکومت کی نہیں بلکہ ایوارڈز کی تذلیل کرنا ہے۔

ان لوگوں نے بھارت میں عدم رواداری پر خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے ایوارڈ واپس کیے
،تصویر کا کیپشنان لوگوں نے بھارت میں عدم رواداری پر خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے ایوارڈ واپس کیے

ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ جیتنے والے شنكھيہ گھوش کہتے ہیں کہ ایوارڈ واپس کرنے والے لوگ دوسرے طریقے سے اپنے احتجاج کا اظہار کر سکتے تھے کیونکہ ساہتیہ اکیڈمی سرکاری ادارہ نہیں ہے۔

ادیبوں کا ایوارڈ واپس کرنے کا فیصلہ حکومت کو کچھ سوچنے پر مجبور کرے یا نہ کرے لیکن اس نے ان انعامات کے سیاسی ہونے کے خطرے کو مزید بڑھا دیا ہے۔

اب حکومت یا ساہتیہ اکیڈمی جیسے خود مختار ادارے اس طرح کا ایوارڈ دینے سے پہلے ان باتوں پر بھی غور کریں گے کہ اسے حاصل کرنے والے شخص کی سیاسی وابستگی کیا ہے؟

ایسا تو نہیں کہ یہ شخص ایوارڈ واپس کر کے حکومت کو شرمسار کر دے گا؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو صلاحیتوں کو نظر انداز کیا جائے گا اور اوسط درجے کی کارکردگی اور درباری ثقافت کو فروغ ملے گا۔

بھارتی پارلیمان ششی تھرور کا کہنا ہے کہ اس طرح اعزاز واپس کرنا اعزاز کی تذلیل ہے
،تصویر کا کیپشنبھارتی پارلیمان ششی تھرور کا کہنا ہے کہ اس طرح اعزاز واپس کرنا اعزاز کی تذلیل ہے

اس صورت حال میں پہلے سے ہی سوالوں کے دائرے میں آنے والے ایوارڈز کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچے گا۔ صرف ایک سیاسی نظریے کے لوگوں کو اس طرح کا اعزاز ملنا ان کو اور بھی مضحکہ خیز بنا دے گا۔

مودی حکومت نے کئی خود مختار اور ثقافتی اداروں کی کمان مخصوص نظریے کے حامل لوگوں کو دے کر اس کی ابتدا کر دی ہے۔

انڈین کونسل آف ہسٹاریکل ریسرچ کے سربراہ کے عہدے پر سدرشن راؤ، قومی بک ٹرسٹ کے سربراہ کے طور پر اخبار کے سابق ایڈیٹر بلدیو شرما کی تقرری اور پونے فلم انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ کے عہدے پر گجیندر چوہان کا لایا جانا اس کی چند نمایاں مثالیں ہیں۔

اگر قومی، ادبی اور فلم ایوارڈز کو بھی سیاست کے شیشے سے دیکھا جانے لگا تو ان کی رہی سہی اہمیت اور معنویت بھی جاتی رہے گی۔