عراق میں شدت پسندوں کا یونیورسٹی پر حملہ، درجنوں یرغمال

رمادی کے بعض حصے کئی مہینوں سے شدت پسندوں کے کنٹرول میں ہیں
،تصویر کا کیپشنرمادی کے بعض حصے کئی مہینوں سے شدت پسندوں کے کنٹرول میں ہیں
وقت اشاعت

عراق میں مسلح افراد نے مغربی شہر رمادی میں ایک یونیورسٹی پر قبضہ کر کے درجنوں اساتذہ اور طلبہ کو یرغمال بنا لیا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق انبار یونیورسٹی کیمپس میں چند گارڈز ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

غیر تصدیق شدہ معلومات کے مطابق حملہ شدت پسند تنظیم ’دولتِ اسلامیہ فی العراق و الشام‘ نے کیا ہے۔

عراق کا مغربی صوبہ انبار ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کا مرکز رہا ہے اور خطے میں بہت سے علاقے سنی شدت پسندوں کے کنٹرول میں ہیں۔

رمادی کے بعض حصے کئی مہینوں سے شدت پسندوں کے کنٹرول میں ہیں۔

اس جاری تشدد کا مطلب یہ ہے کہ 30 اپریل کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں یہاں کوئی ووٹنگ نہیں ہوئی۔

وزیرِ اعظم نوری المالکی کے اتحاد نے ان انتخابات میں برتری حاصل کی تھی لیکن اسے اکثریت نہیں مل سکی۔ نوری المالکی تیسری بار تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہیں لیکن حزبِ اختلاف کی دیگر جماعتیں ان کی سخت مخالف ہیں۔

ان انتخابات کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیےگئے تھے۔

ان انتخابات میں 328 پارلیمانی سیٹوں کے لیے نو ہزار سے زیادہ امیدوار میدان میں تھے۔

وزیراعظم کے مخالفین اس سال ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے لیے انھیں ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جس میں 3500 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

نوری المالکی عراق میں تشدد کی وجہ شام میں کشیدگی جیسے بیرونی عوامل کو گردانتے ہیں اور حزبِ اختلاف کو موجودہ سیاسی تعطل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

عراق گذشتہ کئی سالوں سے بم دھماکوں، خودکش حملوں اور فرقہ وارانہ کشیدگی کی زد میں رہا ہے۔

گذشتہ فروری میں بھی دارالحکومت بغداد میں دو دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہو ئے تھے۔