
ایف 35 طیارہ امریکی وزارت دفاع کے جنگی پروگرام کا اب تک کا سب سے مہنگا منصوبہ ہے
امریکہ نے اپنے جنگی بیڑے میں شامل تمام ایف 35 لڑاکا طیاروں کو انجن میں بلیڈ کی خرابی کے انکشاف کے بعد گراؤنڈ کر دیا ہے۔
امریکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز ایئر فورس بیس پر ایف 35 اے طیاروں کی معمول کی نگرانی کے دوران طیارے کے انجن میں خرابی کا پتہ چلا۔
امریکی فضائیہ کے علاوہ امریکی بحریہ اور امریکی میرین كور بھی ایف 35 طیارے کے مختلف ورژن استعمال کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایف 35 طیارہ امریکی وزارت دفاع کے جنگی پروگرام کا اب تک کا سب سے مہنگا منصوبہ ہے جس پر تقریباً 400 ارب ڈالر کے اخراجات آئے ہیں۔
امریکی وزارت دفاع کے مطابق جب تک ان طیاروں میں آئی خرابی کی اصل وجہ کا پتہ نہیں چل جاتا اور اسے ٹھیک نہیں کر لیا جاتا، اس وقت تک ان طیاروں کی پروازیں معطل رہیں گی۔
گزشتہ دو ماہ میں یہ دوسری بار ہے جب ایف 35 طیاروں کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
گزشتہ ماہ میں میرین كور کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے لڑاکا طیارے ایف 35 بی اور اسی کے ایک دوسرے ورژن ایس ٹی او وی ایل میں تربیتی پرواز کے دوران اس مخصوص طیارے کی بناوٹ میں خرابی پائے جانے کے بعد تقریباً ایک ماہ تک ان طیاروں کی پرواز پر پابندی لگا دی گئی تھی۔
واضح رہے کہ یہ طیارے چھوٹی جگہ سے اڑان بھر سکتے ہیں اور ہیلی کاپٹر کی طرح عمودی لینڈنگ کر سکتے ہیں جبکہ فضائیہ میں استعمال ہونے والے طیارے معمول کے رن وے سے پرواز کرتے ہیں۔
برطانیہ اپنے مستقبل کے لڑاکا طیاروں کے طور پر امریکہ سے ایف 35 طیارے کا ایس ٹی او وی ايل ورژن خرید رہا ہے۔






























