سڈنی: پولیس نے کارروائی کر کے یرغمالی بازیاب کرا لیے

ہارون مونس کو کو آسٹریلیا میں پناہ دی گئی تھی اور اس کے سابق وکیل کا کہنا ہے کہ وہ تنہا رہنے والا شخص ہے
،تصویر کا کیپشنہارون مونس کو کو آسٹریلیا میں پناہ دی گئی تھی اور اس کے سابق وکیل کا کہنا ہے کہ وہ تنہا رہنے والا شخص ہے
وقت اشاعت

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پولیس نے کیفے میں داخل ہو کر یرغمالیوں کو بازیاب کرا لیا ہے۔

سڈنی کے کیفے میں کی جانے والی پولیس کارروائی کے فوراً بعد طبی حکام اس عمارت میں سٹریچرز لے کر داخل ہوئے۔

اس کارروائی میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

دوسری جانب غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پولیس کارروائی میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں یرغمالی بھی شامل ہے۔

سڈنی کے ایک کیفے میں متعدد افراد کو یرغمال بنانے والے شخص کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ایرانی ہے جو ایک مقدمے میں ضمانت پر رہا ہوا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہارون مونس آسٹریلیا میں ایک پناہ گزین ہے اور اس کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں۔

ہارون مونس کو کو آسٹریلیا میں پناہ دی گئی تھی اور اس کے سابق وکیل کا کہنا ہے کہ وہ تنہا رہنے والا شخص ہے۔

حکام کے مطابق ہارون مونس اپنا تعارف بطور مولوی کراتا ہے۔ وہ اپنی سابقہ اہلیہ کے قتل کے الزام میں ضمانت پر رہا ہیں اور ان کے خلاف 40 سے زیادہ جنسی تشدد کے الزامات ہیں۔

اس کے علاوہ مونس کو ہلاک ہونے والے آسٹریلوی فوجیوں کے اہلِ خانہ کو دھمکی آمیز خطوط لکھنے پر بھی سزا ہو چکی ہے۔

اس سے قبل یرغمال بنائے جانے والے افراد میں سے پانچ باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے جن میں سے دو بظاہر عملے کے ارکان ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سڈنی کے مرکزی علاقے کو اس وقت تک بند رکھا جائے گا جب تک مسلح حملہ آور نے کیفے میں لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

واقعے کے کئی گھنٹے بعد کیفے سے دو خواتین باہر نکلنے میں کامیاب ہوئی ہیں
،تصویر کا کیپشنواقعے کے کئی گھنٹے بعد کیفے سے دو خواتین باہر نکلنے میں کامیاب ہوئی ہیں

پیر کی صبح کو ایک مسلح شخص نے وسطی سڈنی کے مصروف کاروباری علاقے مارٹن پلیس میں واقع لنٹ کیفے میں موجود متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی سارے علاقے کو سینکڑوں پولیس اہلکاروں نےگھیرے میں لے لیا۔

نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے کمشنر اینڈریو سائپیون کا کہنا ہے ’اگر مغوی افراد باہر لوگوں سے رابطہ کر رہے ہیں تو ہمارا ان سے مطالبہ ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ اندر موجود مسلح شخص صرف ہمارے تربیت یافتہ مذاکرات کاروں سے ہی بات کرے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اس صورت حال میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔‘

’ہمارا واحد مقصد اس عمارت میں پھنسے افراد کو بحفاظت باہر نکالنا ہے‘

اس سے قبل پولیس کی نائب کمشنر کیتھرین برن نے پیر کی شام ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ عمارت سے باہر نکلنے والے پانچ افراد کا طبی معائنہ کیا گیا ہے اور پولیس ان سے معلومات لے گی۔

تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان لوگوں کو چھوڑا گیا ہے یا وہ خود بھاگ کر آئے ہیں۔

پولیس کے تفتیش کار مسلح شخص کے ارادوں کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنپولیس کے تفتیش کار مسلح شخص کے ارادوں کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں

کیتھرین برن کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ذرائع ابلاغ پر چلنے والی ان خبروں کی تصدیق نہیں کر سکتیں کہ اغوا کار نے شرائط پیش کی ہیں۔

’ہمیں اس سے پولیس کے مذاکرات کاروں کے ذریعے بات چیت کر کے نمٹنا ہے۔ ہم قیاس آرائیوں میں نہیں پڑ سکتے۔‘

اس سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ پولیس واقعے کے پانچ گھنٹے بعد اغوا کار سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوئی۔

آسٹریلوی ٹیلی ویژن پر نشر کیے جانے والے مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کم از کم تین افراد کھڑکیوں کے ساتھ ہاتھ فضا میں بلند کیے کھڑے ہیں اور وہاں ایک کالے رنگ کا پرچم بھی موجود ہے جس پر کلمہ تحریر ہے۔

واقعے کے کئی گھنٹے بعد کیفے سے دو خواتین باہر نکلنے میں کامیاب ہوئی ہیں جو بظاہر عملے کی ارکان لگ رہی ہیں۔

پولیس واقعے کے پانچ گھنٹے بعد اب اغوا کار سے رابطے میں ہے
،تصویر کا کیپشنپولیس واقعے کے پانچ گھنٹے بعد اب اغوا کار سے رابطے میں ہے

اس سے قبل تین دیگر افراد کو بھی لنٹ کیفے کی قریبی عمارت سے باہر نکلتے دیکھا گیا تھا۔

سڈنی میں بی بی سی کے فل مرسر کے مطابق دو شیشے کے دروازوں سے باہر آئے جبکہ ایک شخص ہنگامی اخراج کے راستے سے نکلا۔

مارٹن پلیس کے سٹیشن کے علاوہ مذکورہ عمارت کے آس پاس واقع گلیاں بند کر دی گئی ہیں اور لوگوں کو وہاں سے باہر نکال دیا گیا ہے۔

نیو ساؤتھ ویلز کی پولیس نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اس علاقے میں جانے سے گریز کریں اور آس پاس کے علاقے کے رہائشی کھڑکیوں کے قریب نہ جائیں۔

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم ٹونی ایبٹ نے ملک کی قومی سلامتی کی کمیٹی سے ملاقات کی ہے اور ایک بیان میں اس صورت حال کو تشویشاک قرار دیا ہے۔

سڈنی کے اس علاقے مارٹن پلیس کو سینکڑوں پولیس اہلکاروں نے گھیرے میں لے لیا ہے
،تصویر کا کیپشنسڈنی کے اس علاقے مارٹن پلیس کو سینکڑوں پولیس اہلکاروں نے گھیرے میں لے لیا ہے

ان کا کہنا ہے ’اگرچہ تاحال واضح نہیں کہ یہ کارروائی کرنے والے فرد کا مقصد کیا ہے لیکن تمام آسٹریلوی باشندوں کو اس بات پر یقین ہونا چاہیے کہ ملک کے قانون نافذ کرنے کے ادارے اور سکیورٹی ایجنسیاں تربیت یافتہ ہیں اور اس معاملے سے پیشہ وارانہ طور پر نمٹ رہی ہیں۔‘

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک شخص جو ایک بیگ اور بندوق سے مسلح تھا، لنٹ چاکلیٹ کی دکان اور کیفے میں پیر کی صبح داخل ہوا تھا۔

اس کے کچھ ہی دیر بعد کم از کم دو افراد جو بظاہر کیفے کے ملازمین لگ رہے تھے ایک کھڑکی کے پاس سیاہ جھنڈے کے ہمراہ دکھائی دیے۔

سکیورٹی امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ یہ پرچم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے پرچم سے مماثلت رکھتا ہے لیکن بالکل ویسا نہیں جیسا کہ تنظیم استعمال کرتی ہے۔

آسٹریلیا کی مشہور عمارت سڈنی کے اوپرا ہاؤس کو بھی خالی کروا لیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا کی مشہور عمارت سڈنی کے اوپرا ہاؤس کو بھی خالی کروا لیا گیا ہے

سڈنی میں ہی انسدادِ دہشت گردی کی پولیس نے مشہور عمارت اوپرا ہاؤس کو بھی خالی کروا لیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہاں بھی ’ایک واقعہ‘ پیش آیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اوپرا ہاؤس سے ایک مشکوک پیکٹ برآمد ہوا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ واقعہ مارٹن پلیس والے واقعے سے منسلک ہے یا نہیں۔

آسٹریلیا میں گذشتہ چند ماہ کے دوران دہشت گردی کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے اور ان کے تانے بانے عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے ملتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق 70 آسٹریلوی شہری اس وقت تنظیم کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں برسرپیکار ہیں جبکہ 20 کے قریب لڑائی میں حصہ لینے کے بعد واپس آ چکے ہیں۔

مذکورہ عمارت کے آس پاس واقع گلیاں بند کر دی گئی ہیں اور لوگوں کو وہاں سے باہر نکال دیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنمذکورہ عمارت کے آس پاس واقع گلیاں بند کر دی گئی ہیں اور لوگوں کو وہاں سے باہر نکال دیا گیا ہے

ستمبر میں سڈنی اور برزبین میں آسٹریلوی تاریخ کی انسدادِ دہشت گردی کی سب سے بڑی کارروائی ان اطلاعات پر کی گئی تھی کہ کچھ لوگ آسٹریلوی سرزمین پر دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

اس معاملے میں ایک شخص پر دہشت گردی کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

اس کے بعد اکتوبر میں ملک میں انسدادِ دہشت گردی کا قانون منظور کیا گیا ہے جس پر انتہائی سخت ہونے کے حوالے سے تنقید بھی کی گئی ہے۔

پیر کی صبح بھی آسٹریلیا کی ایک عدالت نے دو افراد پر دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ہونے کی فردِ جرم عائد کی ہے۔